خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 120

خطبات طاہر جلد ۱۰ 120 خطبه جمعه ۱۵رفروری ۱۹۹۱ء جھوٹ اور دجل ہے۔صدام حسین نے کبھی بھی کو یت خالی کرنے سے انکار نہیں کیا۔صدام حسین ہمیشہ یہ موقف لیتے رہے ہیں کہ کویت پر میرا حملہ جارحانہ ہے لیکن اسی قسم کے جارحانہ حملے پہلے اسرائیل کی طرف سے مسلمان ممالک پر ہو چکے ہیں اور ان کا قبضہ موجود ہے اسی طرح باوجود اس کے کہ یونائیٹڈ نیشنز اور سیکیورٹی کونسل نے بار بار ریزولیوشنز کے ذریعے اسرائیل کا قبضہ ناجائز قرار دیا ہے تو اگر تم واقعی صلح چاہتے ہو تو اس بات پر گفت و شنید ہونی چاہئے صرف کویت کا مسئلہ نہیں ہے۔دونوں کو اکٹھا دیکھوتا کہ کویت بھی خالی ہو اور دوسرے مقبوضہ علاقے بھی خالی ہوں اور یہ مسئلہ جو بڑی دیر سے ایک ظلم کا موجب بنا ہوا ہے یہ ایک طرف سے حل ہو۔اس کو امریکہ اس شدت سے رد کر تا رہا ہے کہ جتنے بھی پیغامبر عراق کی طرف جاتے رہے یا دوسرے ممالک کی طرف تاکہ وہ عراق پر زور ڈالیں۔ان کو ختی سے یہ ہدایت رہی ہے یہاں تک کہ یونائیٹڈ نیشنرز کے سیکرٹری جنرل کو ئیار کو بھی یہی ہدایت تھی کہ تم نے گفت و شنید نہیں کرنی اس مسئلے پر۔ان دونوں مسائل کو یعنی فلسطین کے مسئلے کو اور کویت کے مسئلے کو اکٹھا ایک میز پر زیر بحث ہی نہیں لانا کیونکہ اگر وہ زیر بحث لے آئیں تو اس سے امریکہ کا دجل کھل جاتا ہے اور وہ عرب مسلمان ممالک جو اس وقت امریکہ کے ساتھ ہیں ان کے لئے بڑی سخت نفسیاتی مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔امریکہ انکار کر رہا ہے کہ نہیں وہ خالی نہیں کرے گا اور تم خالی کرو یہ ایک ایسی کھلی کھلی دھاندلی اور زیادتی ہے کہ مسلمان حکومتوں کے لئے بڑی مشکل بن جاتی ہے کہ پھر وہ اپنے ساتھ کو قائم رکھیں۔یہ الگ بات ہے کہ جس وجہ سے وہ ساتھ ہے وہ وجہ ابھی رہے گی لیکن اس کے بعد میں بات کروں گا۔آج جو تازہ خبر آئی ہے صدر صدام حسین نے جس طرح پہلے عقل اور حکمت عملی میں بار بار ان کو مات دی ہے ایک اور مات دیدی ہے ، اور وہ اس طرح کہ سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کروانے میں اس نے روس سے مدد مانگی اور دوسرے بعض ملکوں سے۔چنانچہ یہ وہ مان گئے چنانچہ جو مسئلہ وہ میز پر لانا نہیں چاہتے تھے اب وہ سیکیورٹی کونسل کی میز پر آ گیا ہے اور صدام حسین نے کہا ہے کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں سیکیورٹی کونسل ان سب مسائل کو اکٹھا دیکھے اور پہلے یہ سمجھائے ہمیں کہ ریزولیوشن 242 پر کیوں عمل نہیں ہو رہا جو سیکیورٹی کونسل کا ریزولیوشن ہے جس میں کلیۂ سارا الزام سارا اتہام یہود پر ہے اور یہ جرم ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے جارحانہ جنگ کی تھی اور از راہ ستم وہ