خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد ۱۰ 121 خطبہ جمعہ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء علاقے ہتھیائے ہیں، تو اس مرحلے پر اس وقت جنگ داخل ہوئی ہے۔جہاں تک ذمہ داریوں کی تعیین کا تعلق ہے ہم کسی ایک پارٹی کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔یہ مضمون چونکہ کافی لمبا ہے مجھے ابھی اور وقت لگے گا اس کو سمجھانے میں۔لیکن میرا مقصد یہ ہے کہ جنگ تو اللہ بہتر جانتا ہے کب کس حالت میں ختم ہو لیکن جنگ کے ساتھ مسائل ختم نہیں ہوں گے، مسائل بڑھیں گے اور اس جنگ کے نتیجے میں پہلی بات جو ظاہر ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ( الزلزال :۲) کا مضمون دکھائی دے رہا ہے کہ وہ صرف مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے مسائل زمین نے اگل دیئے ہیں بلکہ ساری دنیا میں جو ملتے جلتے مسائل ہیں وہ ظاہر ہور ہے ہیں اور دنیا کی نظر کے سامنے آرہے ہیں۔نئی دنیا کا نقشہ کیا ہوگا۔اس میں بڑی چھوٹی قوموں کے تعلقات کیا ہوں گے۔یونائیٹڈ نیشنز کو کیا کر دار ادا کرنا ہوگا۔وہ یہ کردار ادا کر بھی سکتی ہے کہ نہیں؟ یہ سارے مسائل ، اور بھی اس سے متعلق مسائل دنیا کے سامنے آرہے ہیں ، تیل کی دولت پر کس کو تسلط ہے۔کس طرح اس کا استعمال ہونا چاہئے تو چاہے جنگ ہو یا نہ ہو، ختم ہو یا جاری رہے میرا مضمون بہر حال جاری رہے گا کیونکہ اس کا تعلق لمبے عالمی مسائل سے ہے۔جہاں تک جنگ کی ذمہ داری کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں صدام حسین صاحب پر لا ز ما یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ انہوں نے کویت پر حملہ کیا اور اس حملے میں بہت جلدی کی اور اس کے نتیجے میں اپنی ساکھ کو بھی اور عراق کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا اور سب سے بڑا نقصان یہ کہ دشمن کے جال میں پھنسے کیونکہ اب جبکہ اس مسئلے پر بخشیں اٹھ رہی ہیں کہ کون ذمہ دار ہے؟ تو امریکہ کے، دانشور، اونچے طبقے سے تعلق رکھنے والے صاحب علم لوگوں نے یہ کھل کے اعتراف کیا ہے کہ سب سے بڑی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔پس امریکہ نے جو شرارت کی یہ اس شرارت میں پھنس گئے یہ ایک بہت بڑا جرم ہے، اس لحاظ سے یہ بھی ذمہ دار ہیں۔امریکہ کے کردار کا جہاں تک تعلق ہے اس میں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جیمز ایکینز James Akins عراق میں امریکہ کے سابق سفیر کا بیان ہے۔An anonymous defence consultant, using the pseudonym of Mils Ignotus ("unkhown, soldier") wrote an article in