خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد ۱۰ 119 خطبه جمعه ۱۵رفروری ۱۹۹۱ء کے بعد یعنی وہ بیان غالبا 1900ء کے پہلے دو دہا کوں میں دیا گیا تھا۔1920ء کے قریب اس کے بعد آج قریبا ستر سال گزر چکے ہیں اور وہ منصوبہ بالکل اسی طرح جیسا کہ بیان کیا گیا تھا یا تحریر میں موجود ہے کھلتا چلا جا رہا ہے۔اب جنگ کا جہاں تک تعلق ہے میں یہ بیان کر رہا تھا کہ اس جنگ کے پس منظر میں کیا کیا باتیں ہیں ، کیوں ہو رہی ہیں اور جب تک ہم اس کو تفصیل سے نہیں سمجھیں گے اس وقت تک فی الحقیقت نئی دنیا کا نقشہ بنانے کا اہل نہیں بن سکتے۔ابھی تازہ صورت یہ ہے کہ امن کے قیام کی کوششیں یک دم تیز کر دی گئی ہیں اور ان سے امریکہ کے دو مفادات وابستہ ہیں جس طرح فضائی حملے کی مہم سے پہلے انہوں نے دنیا پر اثر یہ ڈالا کہ ہم بڑی معقول تجویز صدام حسین کے سامنے بار بار پیش کرتے ہیں امن کے خواہاں ہیں ، جنگ کے خواہاں نہیں لیکن دیکھو یہ رد کرتا چلا جارہا ہے۔اسی طرح دوسرے مرحلے میں جنگ داخل ہونے والی ہے جو بعض لحاظ سے اتحادیوں کے لئے بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ اگر چہ جس طرح کہ ان کو غیر معمولی مادی غلبہ حاصل ہے یہ عراق کا زیادہ نقصان کر سکتے ہیں مگر ان کا جانی نقصان بہت زیادہ ہوگا پس اس مرحلے پر انہوں نے بعینہ اسی مہم کا دوبارہ آغا ز کیا جس سے دو فوائد حاصل کرنے تھے۔اول یہ ہے کہ اگر اس مرحلے پر صدام حسین اپنے نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے خوف کھا جائیں اور عراق کی رائے عامہ ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور وہ کہیں کہ کافی ہلاکت ہوگئی ہے بس کرو۔اب مان جاؤ۔اتنی سی بات ہے کہ کو یت خالی کرنا ہے تو اس سے جو عراق کی طاقت کو پارہ پارہ کرنے والا مقصد تھا وہ بھی حل ہو چکا اور کویت بھی خالی کروالیا گیا اور وہ امریکن جانیں بھی بچالی گئیں جن کا سب سے زیادہ ان کو خطرہ ہے اور اس مرحلے پر بار بار بغداد کی طرف پیغامبر بھجوائے گئے خواہ وہ پاکستان کے پیغامبر تھے اور بغداد کی طرف پیغام دینے کے لئے دوسرے ممالک کی طرف پیغامبر بھجوائے گئے جن کا مقصد یہ تھا کہ مسئلے کو صرف اس شکل میں پیش کریں کہ کو بیت خالی کرنے کی بات ہے ساری جنگ ختم ہو جائے گی اور سارا جھگڑا طے ہو جائے گا اس لئے اتنی سی بات کے او پر ضد نہ کرو کافی نقصان اٹھا بیٹھے ہو۔لیکن اصل واقعہ یہ نہیں ہے۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ خطبے میں بیان کیا تھا یہ بالکل ایک