خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 118

خطبات طاہر جلد ۱۰ 118 خطبہ جمعہ ۱۵رفروری ۱۹۹۱ء لیکن یہ 1901ء کا الہام ہے۔میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ انگریزی میں پہلی مرتبہ 1905ء میں Protocols of BF the elders of zion کتاب شائع ہوئی جس میں فری میسن کے تسلط کا ایک منصوبہ ہے یا فری میسن یہود کے تسلط کے اس منصوبے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں تو وہ 1905ء میں رشین زبان میں باقاعدہ کتاب کی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ابھی انگریزی میں شائع نہیں ہوئی تھی۔تو اس سے اور بھی زیادہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کو عظمت ملتی ہے اور عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔کہ ابھی یہ کتاب روسی زبان میں آئی تھی اور اور روس سے باہر کی دنیا کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ یہ منصوبہ کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس سے چار سال پہلے 1901ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہا ماً بتا دیا کہ دنیا میں یہود کے تسلط کا کوئی منصوبہ ہے جس میں فری میسن نے اہم کردار ادا کرنا ہے اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم پر اور تمہاری جماعت پر فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گے۔ایک اور غلطی اس میں تھی جو مجھے کسی نے توجہ تو نہیں دلائی نہ وقت ملا ہے کہ پورا وقت تحقیق کر سکوں لیکن مجھے یہ غالب گمان خطبے کے بعد گذرا کہ وہ غلط کہہ گیا ہوں۔ایک بیان میں نے ڈزرائیلی کی طرف منسوب کیا تھا، خطبے کے بعد مجھے خیال آیا کہ وہ تو انیسویں صدی کے غالباً تیسرے حصے میں پہلے یہودی وزیر اعظم ہیں جو انگلستان میں وزیر اعظم کے منصب تک پہنچے تھے۔تو ان کا وہ بیان ہو نہیں سکتا کیونکہ یہ بیان دینے والا بیسویں صدی کے کسی حصے میں بیان دے رہا ہوگا۔کیونکہ بیان دینے والا یہ کہتا ہے کہ یہود کہتے ہیں اس کتاب سے ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن کتاب میں جو منصوبہ بیان ہوا ہے وہ منصوبہ اسی طرح کھلتا چلا جا رہا ہے جیسا کہ کتاب میں بیان کیا گیا ہے تو اس لئے یہ ہوہی نہیں سکتا کہ یہ کتاب منصوبہ بنانے والوں کی نہ ہو اور چونکہ وہ منصوبہ یہود کی مرضی کے مطابق بن رہا ہے اس لئے لازما وہی ہوگا تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ اگر وہ نہیں تھے تو غالبا ھیزی فورد Henry Ford تھے Henry Ford امریکہ کے پریذیڈنٹ بھی رہے ہیں اور فورڈ کمپنی کے وہ بانی مبانی ہیں اور ان کی ساری دولت رفاہ عامہ کے کاموں وغیرہ پر خرچ ہوئی اور ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ یہودی دجل اور یہودی سازشوں کو بے نقاب کرنے پر گزرا اور غالبا ایک فاؤنڈیشن بھی انہوں نے اس غرض سے قائم کی تھی بہر حال یہ ایک ضمنی بات ہے اصل تبصرہ وہی تھا جو میں نے بیان کیا ہے اور آج اس کے بھی بہت مدت