خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 113

خطبات طاہر جلد ۱۰ 113 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء جب تک مسلمان طاقتیں ایک کے بعد دوسری تباہ و برباد نہ ہو جائیں اس وقت تک صدر بش کے امن کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا۔پس اس کے بعد کس کی باری ہے یہ نہیں میں کہہ سکتا۔پاکستان کی ہے یا شام کی ہے۔پاکستان بھی نیوکلیئر طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔بن چکا ہے یا نہیں۔یہ ایک متنازعہ فیہ مسئلہ ہے لیکن پاکستان کو تباہ کروانے کے لئے کئی ذرائع موجود ہیں۔کشمیر کا مسئلہ ہے سکھوں کا مسئلہ ہے۔ہندوستان کو انگیخت کیا جاسکتا ہے۔چھٹی دی جاسکتی ہے دفاعی امداد اور اقتصادی امداد روک کر اس طرح بے کار اور نہتہ کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی طاقت کے جواب کی پاکستان میں طاقت نہ رہے۔کئی قسم کے منصوبے ہو سکتے ہیں لیکن خطرہ ضرور ہے شام کولا زما خطرہ ہے کیونکہ شام ایک بہت بڑی طاقت بنا ہوا ہے۔اور شام کی بڑی سخت بے وقوفی اور غلطی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس وقت اتحادیوں کے ساتھ شامل ہونے کے نتیجے میں آئندہ شام محفوظ ہو چکا ہے جب تک اسرائیل موجود ہے شام محفوظ نہیں ہے۔اور پھر ایران کو خطرہ ہے اور پھر ترکی Turky کو خطرہ ہے اور ایران اور Turky کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ خواب اس طرح پورا کیا جائے گا کہ ترکی اور ایران کے درمیان آپس میں مخاصمت جو پہلے بھی ہے بڑھائی جائے گی اور اس کے نتیجہ میں کسی وقت آئندہ ان دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان اسی طرح لڑائی کروائی جائے گی جس طرح خود امریکنوں نے اور اتحادیوں کی مخفی تائید کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں کہ عراق کو انگیخت کیا گیا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرے اور امریکہ کے اتحادی عرب ممالک نے اس کی ہر طرح مدد کی اور امریکہ کے اتحادی مغربی ممالک نے عراق کو مسلح کرنے میں اور اس کے Mass Destruction کے ہتھیار بنانے کے سلسلہ میں پوری مدد کی۔تو خواب کا جو پس منظر ہے وہ یہ ہے کہ خواب جس سمت میں آگے بڑھے گی اور پھیلے گی وہ سمت بھی اس پس منظر کے نتیجے میں ہمیں دکھائی دینے لگی ہے اور خواب آخر پر اس طرح پوری ہوگی کہ پہلے جس طرح ایک مسلمان طاقت کو دوسری مسلمان طاقت کو برباد کرنے کے لئے استعمال کیا گیا اور طاقتور بنایا گیا پھر اس بنائی ہوئی طاقت کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور دوسرے مسلمان ممالک کو اس میں شامل کیا گیا۔اس کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ اسی طرح جو بچی کچھی مسلمان حکومتیں ہیں ان کو یکے بعد دیگرے برباد کیا جائے گا۔یہ وہ موت کا خواب ہے جو صدر بش نے دیکھا ہے اور جسے وہ Peace کا خواب کہتے ہیں۔