خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 106
خطبات طاہر جلد ۱۰ 106 خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۹۱ء نیشنز یا سیکیورٹی کونسل فیصلہ بھی کر دیں گی کہ ان علاقوں سے دستبردار ہو جائے تو اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ دستبردار نہ ہو اور کسی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں خواہ وہ مظلوم ملک ہو کہ یونائیٹڈ نیشنز کے اس فیصلے کی تعمیل میں اسرائیل سے وہ علاقہ چھینے کی کوشش کرے ۔ یہ تحفظ حاصل ہے ۔ اس دوران ایک بات کا میں نے ذکر نہیں کیا کہ 1947ء سے لے کر 49 ء تک اسرائیل نے جدید دور میں متشددانہ کارروائیاں یعنی Terrorist کارروائیوں کا آغاز کیا اور Menachem Begin اس کے موجود ہیں اور ان Terrorist کارروائیوں کے نتیجے میں ایک برٹش ڈپٹی گورنر تھے غالبا وہ بھی قتل کئے گئے ۔ کنگ ڈیورڈ ہوٹل کو بارود سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد آدمی مرے اور بے شمار تباہی پھیلی۔ فلسطینیوں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں تین ہزار فلسطینی مرد عورتیں اور بچے ذبح کئے گئے اور بار بار انگریزی حکومت سے بھی تصادم کیا گیا وجہ یہ تھی کہ اس وقت لیبر Labour حکومت تھی اور لیبر حکومت کے مسٹر بیون (MR۔ Bavin) جو فارن سیکرٹری تھے وہ اس بات کے قائل تھے کہ مسلمان مظلوم ہیں اور یہود زیادتی کر رہے ہیں چنانچہ انہوں نے ہر کوشش کی کہ یہود کا ناجائز داخلہ فلسطین میں بند کیا جائے ۔ چنانچہ ایک جہاز جس میں چار ہزار سے زائد یہود مہاجرین خلاف قانون فلسطین میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے ،مسٹر بیون کے حکم پر انگریزی فوج نے اس کا تعاقب کیا ، اور اس جہاز کو پکڑا اور واپس جرمنی پہنچا دیا۔ اس پر تمام جرنلسٹ دنیا نے اتنا شدید احتجاج کیا اور بیون کو گالیاں دیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ ایک حکومت کے سپر دامانت کی گئی ہے کہ اس علاقے کو امانتاً اپنے پاس رکھو اور امانت کی شرائط میں یہ بات داخل کی گئی ہے کہ اس سے زیادہ باہر سے یہود اس میں داخل نہیں ہوں گے اور اس پر عمل کروانے کے نتیجے میں جو رد عمل دکھایا جاتا ہے برٹش جرنلزم کی طرف سے وہ حیرت انگیز ہے۔ ایک صاحب جنہوں نے کتاب لکھی ہے "Making of Israel" (میکنگ آف اسرائیل) ان کا نام James Cameron کچھ ہے وہ یہ لکھتے ہیں کہ اتنا بھیا نک ظلم ! آپ سوچیں کہ ان چار ہزار یہودیوں کو جرمنی کی بد بخت اور ظالم زمین میں واپس کیا گیا ہے اور وہ بد بخت اور ظالم زمین میں 1947 ء میں واپس کیا گیا ہے جنگ کے خاتمے کے تین سال بعد ۔ اگر وہ ایسی ہی