خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد ۱۰ 101 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء حق میں ہوئے اس کے مقابل پر ایک باقاعدہ مقابل پر مظاہرہ کرنے والی فوج تیار کی گئی تھی عوام میں سے خرید کر ان کو مسلح بھی کیا گیا تھا غالبا چھ ہزار ان کی تعداد تھی وہ چونکہ با قاعدہ مسلح تھے اور تربیت یافتہ تھے انہوں نے ان مظاہروں پر کسی حد تک قابو پایا لیکن وہ مظاہرے اتنے شدید تھے اور اتنے پھیل گئے کہ جیسا کہ ایسے موقع پر پہلے سے ہی پتا ہوتا ہے کہ فوج پھر دخل دے گی۔دولاکھ فوج شاہ کی حمایت میں میدان میں کود گئی اور پہلے سے فیصلے کے مطابق شاہ آف ایران کو جو امریکی اور انگلستانی غلامی کی ایک کامل تصویر تھے ان کو ایران پر ہمیشہ کے لئے یا جب تک وہ بد انجام کو نہیں پہنچ گئے مسلط کر دیا گیا۔ایک یہ کارروائی ہے جو ہمیں اس پس منظر میں پیش نظر رکھنی چاہئیے۔دوسری کارروائی 1956ء میں ہوئی جب کہ Egypt کے صدر ناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ اسوان ڈیم کے سلسلہ میں امریکہ نے صدر ناصر سے کچھ وعدے کئے تھے کہ ہم اس کے پیسے مہیا کریں گے۔صدر ناصر کے رجحانات چونکہ روس کی طرف تھے اور بار بار کے سمجھانے کے باوجود اسرائیل کے خلاف ان کے تشدد میں کمی نہیں آ رہی تھی اس لئے ان کو سبق دینے کے لئے امریکی حکومت نے وہ وعدہ واپس لے لیا۔اسوان ڈیم اس وقت تک مصر کی زندگی کے لئے سب سے اہم منصوبہ بن چکا تھا کیونکہ مصر کی اقتصادی زندگی اور زرعی پیداوار کے لئے اسوان ڈیم نے بہت ہی اہم کردار آئندہ ادا کرنا تھا اس کے بغیر مصر خوراک وغیرہ میں اور بہت سی دوسری اقتصادی چیزوں میں خود کفیل نہیں ہوسکتا تھا اور منصوبہ اس حد تک آگے بڑھ چکا تھا کہ اس وقت اس کا روکنا مصر قبول نہیں کر سکتا۔تھا تو مصر نے اپنے Finance حاصل کرنے کے لئے یعنی اس کے اخراجات پورے کرنے کی خاطر نہر سویز کو قومیا لیا۔نہر سویز پر اس وقت تک انگریزوں اور فرانس کا تسلط تھا کیونکہ اس کمپنی کے فیصلہ کن Shares ان کے پاس تھے۔چنانچہ پھر انگلستان نے اس کے متعلق ایک منصوبہ بنایا تا کہ ناصر کو اور Egypt کو اس بات کی سزا دی جائے کہ وہ ہمارے مفادات پر حملہ کرے اور منصوبہ بڑا بھونڈا سا بچوں والا منصوبہ ہے لیکن تھا بہت خوفناک۔اسرائیل کو آمادہ کیا گیا کہ وہ حملہ کرے Egypt پر اور نہر سویز تک پہنچ جائے اور چونکہ یہ اچانک بغیر اطلاع کے حملہ ہو گا اور Egypt کے پاس کوئی ایسی دفاعی فوج نہیں تھی کہ اس حملے کا مقابلہ کر سکتا اس لئے یہ آناً فاناً کامیاب ہونے والا حملہ تھا۔اس کے بعد انگریز اور فرانسیسی دونوں اسرائیل کو