خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد ۱۰ 99 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء کے خوب شادیانے بجائے گئے اور امریکی حکومت نے اس کو بڑا سراہا کیونکہ اس کی نظر اس وقت روس کے خلاف فیصلے پر رہی لیکن 1951ء میں جب برٹش امیر ینین آئل کمپنی کے ساتھ معاہدے پر نظر ثانی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش ہورہا تھا تو برٹش ایرینین آئل کمپنی کی اتنی بڑی طاقت تھی کہ امریکہ یا خود انگریزوں کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہماری مرضی کے خلاف اس معاہدے میں جوار نین آئل کمپنی اور حکومت کے درمیان تھا کوئی ردو بدل کر دیا جائے گا۔برٹش امرینین آئل کمپنی کی طاقت کا انداز ہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ جو یہ رقم ٹیکس کے طور پر ایرانی حکومت کو دیتے تھے وہ تمام ایرانی بجٹ کا نصف تھا اور جور تم وہ برٹش ارینین آئل کمپنی کے مالک ٹیکس کے طور پر انگریزوں کو دیتے تھے وہ اس سے بہت زیادہ رقم تھی اور جو منافع وہ خود رکھتے تھے وہ اس سے دس گنا زیادہ تھا یعنی کم از کم پانچ گنا ایران کی کل اجتماعی دولت یہ برٹش آئل کمپنی سالانہ کھا رہی تھی اس لئے یہ و ہم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اس کے خلاف کچھ ہو سکتا ہے۔چنانچہ جب اسمبلی کے سامنے یہ بحث پیش ہونے لگی تو ایرانی وزیر اعظم کو انہوں نے خریدا ہوا تھا یا جس طرح بھی انہوں نے اس کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔اس نے ایک رپورٹ پیش کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ برٹش امیر ینین آئل کمپنی کو قومیانے کا فیصلہ ایرانی مفاد کے سخت خلاف ہوگا اس پر ایک دم پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کا شور اٹھا اور دوسرے دن یا تھوڑی دیر کے بعد ہی اسے نماز پڑھتے ہوئے گولی مار دی گئی اور نئے وزیر اعظم کے طور پر ڈاکٹر مصدق کا انتخاب ہوا۔ڈاکٹر مصدق چونکہ پوری طرح ایرانی مفادات کے وفادار تھے اس لئے اس وقت سے پھر جنگ کی گھنٹی بجادی گئی سب سے پہلے تو انگریزوں نے امریکہ سے رابطہ پیدا کیا اور اس سے بھی پہلے انہوں نے ماریشس میں مقیم اپنے ہوائی جہازوں کے ذریعے جو فوج منتقل کردی جاتی ہے Air Borne Division اس کو حکم دیا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔لیکن امریکہ نے سمجھایا کہ یہ طریق نہیں ہے اور طریق سے اس کو طے کریں گے۔اس کے بعد امریکہ پر انہوں نے دباؤ ڈالا کہ ایک سازش تیار کی جائے جو برٹش ISI اور امریکہ CIA مل کر کریں جسے مخفی طور پر منظور کر لیا گیا اور انگلستان میں ISI کے نمائندہ مسٹرسن کلیئر Mr۔Sun Clare جو انگریزوں کی طرف سے ISI کے سر براہ تھے اور C۔I۔A کے نمائندہ Kim Rosevelt ان کے درمیان ایک منصوبہ طے ہوا لیکن اس عرصے میں امریکہ نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کر کے تمام دنیا میں امرینین آئل کا