خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 98
خطبات طاہر جلد ۱۰ 98 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء عربوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔لیکن اس کے بعد جب 1949ء میں سیز فائر ہوا ہے یعنی آپس میں Truce ہوئی اور صلح قائم کروائی گئی تو %56 سے بڑھ کر یہود کے قبضہ میں %75 علاقہ جاچکا تھا۔یہ تو ہے یونائیٹڈ نیشنز کا کردار اور انگلستان کا کردار اور امریکہ کا کردار۔یہ بہت بڑی تفصیلات ہیں جن کے سب حوالے میرے پاس ہیں لیکن میں اپنے خطبوں کو اسی بحث میں مبتلا نہیں کرنا چا ہتا اور الجھانا نہیں چاہتا۔خلاصہ یہی ہے کہ عالمی سازش کے نتیجے میں جس میں لیگ آف نیشنز نے اور یونائیٹڈ نیشنز نے بھر پور حصہ لیا اور سب سے اہم کردار انگلستان نے اور امریکہ نے ادا کیا یہود کی ایک ایسی ریاست فلسطین میں قائم کر دی گئی جو انصاف کی کسوٹی پر کسی پہلو سے بھی قائم نہیں کی جاسکتی تھی بین الاقوامی قوانین کی رو سے بین الاقوامی یونائیٹڈ نیشنز کی روایات اور چارٹر کے نتیجے میں اس کا پہلا قدم ہی نہیں اٹھایا جا سکتا تھا مگر اٹھایا گیا اور اس کے بعد پھر جنگوں کا آغا ز شروع ہوتا ہے اس علاقے میں دو قسم کی جنگیں لڑی گئی ہیں۔یاد و قسم کی کارروائیاں کی گی ہیں۔ایک مغربی مفادات کے تحفظ کی خاطر بین الاقوامی مفادات کے نام پر کارروائیاں کی گئیں۔کہا یہ گیا کہ یہ بین الاقوامی مفادات ہیں جن کی خاطر ہم یہ کرتے ہیں اور کھلم کھلا مغربی تحفظات تھے۔ان میں سب سے زیادہ اہم کردار انگلستان نے اور فرانس نے ادا کیا اور امریکہ ہمیشہ ان کے ساتھ شامل رہا۔مفادات کی پہلی کارروائی ایران کے خلاف ہوئی ہے۔1950ء میں ایران کی پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمارے تیل کی دولت سے متعلق جو بیرونی دنیا کی لالچ اور دخل اندازی کے ارادے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک فیصلہ ہم یہ کرتے ہیں کہ ایران کے شمالی حصے کے تیل کے چشموں پر روس کے دخل کی پیشکش کو رد کر دیا جائے یعنی الفاظ پوری طرح شاید بات واضح نہیں کر سکے مراد یہ ہے کہ روس نے ایک پیش کش کی تھی کہ جس طرح (BRITISH IRANIAN OIL COMPANY) برٹش ایرانین آئل کمپنی کو تم نے اپنے جنوبی حصے میں تیل کے چشموں سے استفادے کی اجازت دی ہوئی ہے اور تمہارے ساتھ سمجھوتے کے ساتھ وہ تمہاری خاطر بظاہر تیل نکال رہے ہیں اور اپنے فائدے اٹھا رہے ہیں ہمیں بھی اجازت دو۔تو انہوں نے کہا روس کو شمالی حصے میں دخل کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دوسرا یہ فیصلہ کیا کہ برٹش امیر ینین آئل کمپنی سے ہم اپنے معاہدے کو وقتا فوقتاز بر نظر لاتے رہیں گے اور آئندہ اس معاہدے پر نظر ثانی 1951ء میں ہوگی 50 ء کے اس فیصلے پر امریکہ میں فتح