خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1011
خطبات طاہر جلد ۱۰ 1011 خطبہ جمعہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ء نے میری خاطر اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے میرے حضور کچھ مالی قربانی پیش کی ہے۔خدا سے زیادہ شکر گزار اور کوئی نہیں ہے۔اسی لئے اس کا نام شکور رکھا گیا ہے۔حالانکہ اگر آپ گہرائی سے دیکھیں تو شکر کے مضمون کا خدا پر اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔اور ظاہری نظر سے ہم اس معاملہ پر غور نہیں کرتے۔شکر تو اس کا ادا کیا جاتا جس نے کوئی احسان کیا ہو۔خدا پر تو کوئی احسان ہو نہیں سکتا۔جو کچھ ہے اس نے عطا کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے ( در تین صفحه : ۳۶) محسن کے طور پر ہے۔اس کا شکر بھی احسان کی ایک بہت ہی اعلیٰ درجہ کی قسم ہے۔اس شکر کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔اپنے بندے پر احسان فرماتا ہے کہ اسے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بخشے اور پاک جذبوں سے خرچ کرنے کی توفیق بخشے۔پھر شکر کے ساتھ اسے قبول فرماتا ہے۔اور اس کی ضروریات کا کفیل بنا اس کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے ”شکور ہونے کا یہ جو مضمون ہے یہ اتنا لطیف ہے کہ اسپر آپ جتنا غور کریں اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی محبت آپ کے دل میں اچھلتی چلی جائے گی۔پس چندے دیں تو اس ادا سے دیں کہ ہر چندہ آپ کے طرز فکر کو خدا کی محبت کی سمت رواں کر دے۔آپ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات کے مضمون پر مزید غور کیا کریں اور آپ کی مالی قربانی آپ کو وہ کچھ عطا کر جائے جسے دنیا کی ساری دولتیں بھی خرید نہ سکتی ہوں ایک شخص چند کوڑی خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ایک ہے جو چند لا کھ پیش کر دیتا ہے۔لیکن خدا تو نہ چند کوڑی میں خریدا جا سکتا ہے نہ چند لاکھ میں خریدا جا سکتا ہے۔تمام دنیا کی دولتیں خود اسی نے عطاء کر رکھی ہیں۔ساری دنیا کی دولتیں بھی اس کے حضور پیش کر دیں تو خدا خریدا نہیں جاسکتا۔مگر یوسف تو سوت کی ایک آٹی پر بک گیا اور آج تک دنیا اس کے قصے سناتی ہے۔لیکن یوسف کو خدا سے کیا نسبت ہے ، خدا تو ایک آٹی سے کم رزق کے ایک دانے پر بھی بکنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔اگر وہ محبت اور خلوص کے ساتھ اس کے حضور پیش کیا جائے۔تو اپنی عظیم پر رفعت قربانیوں کو اس طرح ضائع نہ کریں۔جب خدا کے نام پر آپ سے مانگا