خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1012 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1012

خطبات طاہر جلد ۱۰ 1012 خطبہ جمعہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء جائے تو خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے حالات پر غور کر کے اس سے تعلق بڑھانے کیلئے ، اس سے پیار کے رشتے قائم کرنے کیلئے پیش کیا کریں۔پھر دیکھیں آپ کی تنگ دستیاں بھی دور ہونی شروع ہو جائیں گی اور آپ کے رزق میں غیر معمولی وسعت ملی گی اور ایسی وسعت نہیں ملے گی جو آپ کے لئے ابتلاء لیکر آئے۔ایسی وسعت ملے گی جو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بدلیاں آپ کیلئے اٹھالائے گی اور آپ ہمیشہ خدا کی رحمت کے سائباں تلے رہیں گے۔آپ پر خدا کی برکتیں برسا کریں گی۔آپ کی مصیبتیں کم ہوتی چلی جائیں گی۔آپ کی راحت کے سامان بڑھتے چلے جائیں گے اور کچھ عرصہ کے بعد آپ اپنے آپ کو ایک محفوظ انسان سمجھیں گے۔جہاں بھی رہیں گے وہ آپ کے لئے دارالامان ہوگا۔قادیان دارالامان میں آپ کیلئے ایک یہ بھی پیغام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان قربانیوں اور قربانیوں کی ان اداؤں کے ساتھ اپنے گرد ایک دارالامان خدا سے طلب فرمایا۔یعنی زبان حال سے اور اللہ تعالیٰ نے اس دارالامان کو پہلے ”الدار“ کی صورت میں عطا فرمایا پھر اس کا درجہ بڑھاتا چلا گیا۔یہاں تک کہ یہ وعدہ فرمایا کہ جو تیرا روحانی فرزند ہے ، تجھ سے روحانی تعلق بھی رکھتا ہے، وہ بھی تیرے گھر کی امان میں ہے۔پس قادیان کی امان کو آپ سارے ہندوستان پر پھیلا سکتے ہیں۔یہ امان ایسی نہیں جو یہاں جڑ پکڑ کر یہیں کی ہو رہی ہے۔یہ ایسا پودا ہے جو آپ کے گھروں میں لگ سکتا ہے۔اور ہر احمدی ہر ایک گھر کو دارالامان بنا سکتا ہے۔مگر اس کا طریق وہی ہے جو میں آپ کو بتارہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سے جب ایسا تعلق قائم کر لیا جائے کہ آپ پیار کے نتیجہ میں اس کی خاطر اٹھتے بیٹھتے اور قربانیاں کرتے ہوں محض رسمی طور پر نہیں محض ظاہری اطاعت کے طور پر نہیں تو خدا تعالی کی طرف سے آپ کو امان دی جاتی ہے ہر قسم کے مصائب سے امان دی جاتی ہے، ہر قسم کی مشکلات سے امان دی جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کا ایک پیار کرنے والا ، آپ کی نگہداشت کرنے والا ایک موجود ہے۔ہمیشہ وہ آپ کے سر پر کھڑا ہے اور آپ کا ساتھ دینے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو ایسا خدا کا ہو جائے وہ جب سوتا ہے تو خدا اس کیلئے جاگتا ہے ، جب اسے خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کا دشمن اس کیلئے کیا تیاری کر رہا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے دشمن کی شرارتوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کے توڑ کے منصوبے بنارہا ہوتا ہے اور دشمن کے ہر وار کو اس کے پڑنے سے پہلے ہی معطل اور نا کام