خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 97

خطبات طاہر جلد ۱۰ 97 40 خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۹۱ء آبادی ہوہی نہیں سکتی۔مزید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بہت بھاری تعداد میں یہود وہاں سمگل کئے جاتے تھے اور برٹش حکومت کی بعض موقعوں پر جائز کوششوں کے باوجود کہ یہ سلسلہ بند ہو، یہ سلسلہ جاری رہا اور جب بھی برٹش حکومت نے اس کو روکنے کی کوشش کی ،ان کے خلاف بغاوت ہوئی اور انتقامی کارروائی یہود کی طرف سے کئی گئی بہر حال نسبت سات اور بیس کی بیان کی جاتی ہے۔جس پر یونائیٹڈ نیشنز یہ فیصلہ کرنے بیٹھی کہ تقسیم کے نتیجے میں کتنا علاقہ یہود کو دیا جائے اور کتنا مسلمانوں کو۔فیصلہ یہ کیا گیا کہ %56 رقبہ فلسطین کا یہود کے سپرد کر دیا جائے باقی %44 میں سے جو علاقہ یروشلم کا ہے وہ بین الاقوامی نگرانی میں رہے کیونکہ مقامات مقدسہ ہیں جن کا تعلق یہود سے بھی ہے، عیسائیوں سے بھی ہے اور مسلمانوں سے بھی اور باقی جو بچا کھچار قبہ تھا وہ عرب مسلمانوں کے سپردنہیں کیا گیا۔عرب مسلمانوں کو دینا تھا اس فیصلے میں یہ قطعی طور پر اعلان کیا گیا کہ دونوں علاقوں میں دونوں کی با قاعدہ حکومت قائم کروانے کے سلسلے میں برٹش گورنمنٹ یونائیٹڈ نیشنز سے تعاون کرے۔اور ان کی قائم کردہ نمائندہ کمیٹی اس کام کو نگریزی حکومت کے تعاون سے پائیہ تکمیل تک پہنچائے۔عملاً یہ ہوا کہ انگریزی حکومت نے تعاون کرنے سے کلیہ انکار کر دیا جس کے نتیجے میں جہاں تک مسلمان تھے ان کو منظم کرنے والا کوئی نہیں تھا ان میں بے چینی تھی۔افراتفری تھی اور کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو باقاعدہ ان کی وہاں حکومت بنواتا اور جہاں تک یہود کا تعلق ہے یہاں دو قسم کے ادارے قائم ہوئے ایک تو مینا خم بگین (Menachem Begin) کی قیادت میں 48ء سے پہلے سے ہی بہت مضبوط Terrorist Organisation قائم کر دی گئی تھی جو انگریزوں کے خلاف بھی terror استعمال کر رہی تھی اور عربوں کے خلاف بھی Terror استعمال کر رہی تھی اور دوسرے ڈیوڈ مینگورین(David Ben Gurion) کی قیادت میں امریکہ سے کثرت سے اسلحہ یہود کو مہیا کیا جارہا تھا اور یہاں تین چار قسم کی Organisations قائم کر دی گئی تھیں جو منظم طریق پر نہ صرف اپنے علاقے کا دفاع کریں اور یہاں حکومت قائم کریں بلکہ اور بھی کچھ علاقہ عربوں سے ہتھیا لیں۔چنانچہ یہ جو 1948ء سے 1949 ء تک کا ڈیڑھ سال کے قریب کا عرصہ ہے اس عرصے میں عربوں اور یہود کی جھڑپ ہوتی رہی، اس میں ارد گرد کی عرب ریاستوں نے بھی حصہ لیا اور غیر رسمی جنگوں کا آغاز ہوا یعنی با قاعدہ حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغا ز نہیں ہوا بلکہ وہ۔