خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 996 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 996

خطبات طاہر جلد ۱۰ 996 خطبہ جمعہ ۲۰/ دسمبر ۱۹۹۱ء داخل ہوگا ، اس کو اگر روکا جائے تو شرارت کا احتمال نہ ہو، یہ ساری باتیں ہیں جن میں توازن پیدا کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے اگر بیدار مغزی سے پہلے ہی متنبہ ہوں تو پھر آپ ایسا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ہمیں جلسے کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق بخشے۔مقامی درویشوں پر بہت بڑا بوجھ ہے۔بعض کے گھر اس طرح بھرے ہیں اور بھر نے والے ہیں کہ باہر سے آدمی دیکھے تو سوچ نہیں سکتا کہ اس گھر میں سے اتنے افراد نکلیں گے۔آج کل تو مرغی خانے کا نظام اور طرح ہو گیا ہے۔پرانے زمانے میں خصوصاً پنجاب میں چھوٹے چھوٹے دڑبے رکھے جاتے تھے اور ان میں قطع نظر اس کے کہ اتنی سانسوں کی گنجائش بھی ہے کہ نہیں ، زمیندار مرغیاں گھسیڑ تا چلا جاتا تھا۔حتی کہ آخر پر مشکل سے دروازہ بند کر دیتا تھا۔یہ اللہ کی شان ہے کہ ایسی حالت میں مرغیاں بچ جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں میں نے دیکھا کہ ایک دوڑ با کھلا تو اس میں اتنی مرغیاں نکلیں گھبرائی ہوئی اور پریشان کہ یقین نہیں آتا تھا کہ اس چھوٹے سے دڑبے میں سے نکل رہی ہیں لیکن یہ صرف مرغیوں کی دنیا کی بات نہیں ہے۔احمدی جلسے میں ہر گھر مرغا خانہ بن جاتا ہے اور بعض دفعہ مہمان نکلتے ہیں اور اتنے نکلتے ہیں کہ انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ کیسے اس میں سما گئے تھے؟ مگر دل کو خدا تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی ہے، ایثار کے جذبے عطا کئے ہیں، محبت عطا کی ہے۔اس کے نتیجے میں یہ سب انہونی باتیں ہو کر رہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ محبت اور پیار کے انداز میں ان مشکل تقاضوں کو پورا کریں اور شوق سے اور پیار سے پورا کریں ،لطف اٹھاتے ہوئے پورا کریں نہ کہ تکلیف محسوس کرتے ہوئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: جلسہ کے ایام میں اور آج سے لے کر جلسہ تک اور جلسہ کے بعد بھی کچھ عرصہ تک کیونکہ لوگوں کو بار بار مساجد میں اکٹھا ہونے میں تکلیف ہوتی ہے اور ایسی تکلیف کے لئے اللہ تعالیٰ نے سہولت مہیا فرما رکھی ہے اس کے لئے نمازیں جمع ہوتی رہیں گی۔آج بھی ہوں گی اور جب تک سہولت پیدا نہ ہو جائے تب تک اس رخصت سے استفادہ کیا جائے گا۔تو یا در کھئے کہ اب بھی ، شام کو بھی اور آئندہ بھی ان ایام میں ظہر و عصر کی نمازیں اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع ہوا کریں گی۔“