خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 92 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 92

خطبات طاہر جلد اول 92 92 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۸۲ء ہیں۔یہاں پہاڑوں کی ایسی چوٹیاں ہیں جن کی سطح مرتفع گھاس سے لدی ہوئی ہے اور کوئی درخت دیکھنے کو نہیں ملتا لیکن چٹانوں کو بھی خوبصورت رنگوں کی کائیوں نے بڑے حسین لبادے عطا کر رکھے ہیں۔یہاںAfloat کے اندر سمندر میں پانی کی جو جھیلیں پہاڑوں کی وادیوں نے بنا رکھی ہیں ، آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑ سمندر کے سینے میں اتر آئے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ بڑے پیار کے ساتھ ہمیشہ ان پانیوں کا نظارہ کرتے ہیں جنہوں نے انہیں اپنے دل میں اتار رکھا ہے۔حسن کی یہ ساری کائنات فردا فردا بھی اور اپنی اجتماعی شکل میں بھی اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور قرآن کریم کی اس آیت کی طرف توجہ منتقل ہو جاتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (بنی اسرائیل (۲۵) کہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو خدا کے حمد کے گیت نہ گارہی ہو اور اس کی پاکیزگی بیان نہ کرتی بو وَ لكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ، لیکن اے غافل انسان تو اس تسبیح کو نہیں سمجھتا ، اس تسبیح سے غافل ہے جو کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے رب کی حمد میں گا رہا ہے۔اِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا پھر بھی تمہارا رب بہت ہی بردبار ہے۔وہ بڑے حوصلے سے تمہاری بے پرواہیوں کو برداشت کرتا ہے اور تمہارے گناہوں کی بخشش فرماتا ہے۔پس یہ وہ دنیا ہے جہاں کائنات کا ذرہ ذرہ اس آیت کے بیان کے مطابق حقیقتا اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتے ہوئے ان کانوں کو سنائی دیتا ہے جو ان کے سننے کی طاقت رکھتے ہیں۔ان آنکھوں کو دکھائی دیتا ہے جو دیکھنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ہاں ایک چیز جو حد سے کلینہ خالی اور عاری دکھائی دیتی ہے اور وہ یہاں بسنے والے انسانوں کے دل ہیں۔میں نے حیرت سے اس نظارہ کو دیکھا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ ان جنتوں میں ایسے سینے ہیں جو صحرا بسینہ ہیں۔وہ ویرانوں کو اپنے سینوں میں سمیٹے پھرتے ہیں۔ان وادیوں میں ، اس حسن کے نظاروں میں ایسے دل ہیں جو خدا کی یاد سے کلینتہ عاری ہو کر ویرانوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی میری توجہ ربوہ کے ان بسنے والوں کی طرف مبذول ہوئی جنہوں نے