خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 93

خطبات طاہر جلداول 83 93 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء ابھی کچھ دن پہلے ایک نہایت ہی کڑے رمضان کا زمانہ گزارا۔ان میں سے اکثر غریب لوگ ہیں۔ان کے پاس آسائش کے سامانوں کا تو کیا ذکر روز مرہ کی زندگی کی ادنی ضرورتیں بھی میسر نہیں۔دن بھر مکھیاں انہیں ستاتی ہیں اور رات کو مچھروں کا شکار رہتے ہیں۔دن کو دھوپ کی گرمی اور رات کو مچھروں کی ایذا سے نہ ان کو دن کو نیند آ سکتی ہے نہ رات کو نیند آتی ہے۔بڑی مشکل کی زندگی بسر کرتے ہوئے بھی ان کے سینوں میں خدا بسا ہوا ہے۔وہ ان تکلیفوں سے کلینتہ بے نیاز ہیں اور رمضان کی کڑی آزمائش میں بڑی شان کے ساتھ پورے اترنے والے لوگ ہیں۔میں نے دیکھا ان مسجدوں میں جن میں شدید گرمی کے باعث اندر داخل ہوتے ہوئے بھی پسینے آتے تھے ، نہ وہ دن کو ٹھنڈی ہوتی تھیں نہ رات کو ٹھنڈی ہوتی تھیں۔روزہ داروں کے بدن کے پانی سوکھ جاتے تھے لیکن پھر بھی خدا کی محبت میں ان کے آنسو سجدہ گاہوں کو تر کر دیتے تھے۔پس یہ بھی ایک نظارہ میرے سامنے آیا اور میں تعجب اور حیرت میں ڈوب گیا کہ وہ جگہیں جہاں خدا زیادہ یاد آنا چاہئے۔جہاں اللہ نے زیادہ فیاضی کا سلوک فرمایا ہے، وہ جگہیں تو خدا کی یاد سے خالی ہوں لیکن وہ جگہیں جو آزمائشوں میں مبتلا ہیں، ان جگہوں میں اللہ بس رہا ہو۔گو یا ویرانوں میں ایسے سینے ہیں جہاں جنتیں بس رہی ہیں اور جنتوں میں ایسے سینے ہیں جہاں ویرانے آباد ہیں۔آخر کیوں ایسا ہوا۔کیوں انسان کی توجہ ان نظاروں کو دیکھ کر اپنے رب کی طرف مبذول نہیں ہوتی۔یہ سوچتے ہوئے میری توجہ قرآن کریم کی ان آیات کی طرف پھر گئی جو سورہ انعام میں ساتویں پارے کے آخری دور کوع کے اندر پائی جاتی ہیں یعنی سورہ انعام کا وہ حصہ جو ساتویں پارہ کے آخری دور کوع مشتمل ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ اسی قسم کے فطرتی حسن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُوْنَ فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنَّا وَالشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (الانعام ٩٤-٩٦) فرمایا اِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوى اللہ تعالیٰ گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے اور بیجوں کا دل چیر نے والا ہے۔ان میں سے نئی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور زندگی کی نئی شکلیں نمودار ہوتی