خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد اول 83 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء اس لیے میں آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ دوسروں کے لباس دیکھ کر یہ فیصلہ کیا کریں کہ وہ لباس کا آقا ہے یا لباس اس کا آقا ہے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لباس کے بارے میں ہمیشہ یہ فیصلہ کیا کریں اور اپنے نفسیاتی پس منظر کا بڑی باریک نظر سے مطالعہ کیا کریں کہ آیا آپ لباس کے غلام بن رہے ہیں یا لباس آپ کا غلام بن رہا ہے؟ آپ وہ ہینگر ہیں جس کے اوپر ماڈل کے طور پر لباس لٹکائے جاتے ہیں یا وہ انسان ہیں جن کی زینت کی خاطر لباس بنائے جاتے ہیں اگر آپ اپنا یہ زاویہ نگاہ درست کر لیں تو آپ کا ظاہری لباس بھی متقیا نہ ہو جائیگا، وہ بھی سیح ہو جائیگا۔ان سب باتوں کو ملحوظ رکھنے کے بعد پھر اگلا قدم آتا ہے یعنی تقویٰ کے لباس کی حقیقت کیا ہے؟ تقویٰ کا لباس انسان کی ہر خامی کو ڈھانپ لیتا ہے اور تقویٰ کے مطابق ہی انسان کو زینت ملتی ہے۔تقویٰ کا لباس نہ ہو تو جہاں جہاں سے یہ لباس نہیں ہو گا وہاں وہاں سے بدن ننگا ہو جائے گا۔وہ روحانی لحاظ سے دھوپ کا بھی شکار ہو گا اور سردی کا بھی شکار ہوگا۔اور خدا اور خدا والوں کی نظر میں وہ چیتھڑوں میں ملبوس شخص جیسا ہو گا۔جتنا یہ لباس کامل ہوتا چلا جائے روحانی بدن ڈھکتا چلا جاتا ہے اور زینت عطا ہوتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا: يبَنِي أَدَمَ خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۳۲) دیکھو کہ جب مسجدوں میں جاؤ تو اپنی زینت ساتھ لے کر جایا کرو۔زینت سے کیا مراد ہے؟ کیا دنیا کی زینت مراد نہیں؟ وہ ثانوی معنی ہیں۔مراد یہ ہے کہ تقویٰ کا لباس پہن کر جایا کر محض اللہ مسجد کی طرف سفر کیا کرو۔ہر قدم پر دعائیں کرتے ہوئے جاؤ توفیق مانگتے ہوئے جاؤ کہ خدا تعالیٰ مسجد سے تمہیں نیکی عطا کرے، ریا کاری سے بچائے عبادت کے حق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔اب چونکہ ساری دنیا سے احمدی سپین کی مسجد کے افتتاح پر پہنچیں گے اس لئے مجھے خیال آیا کہ ساری دنیا کے احمدیوں کو بتانے کی ضرورت ہے، یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ لوگ وہاں ظاہری طور پر تو مختلف بھیسوں میں آئیں گے، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے، بھانت بھانت کے لباس میں ملبوس۔کوئی انڈونیشیا سے آرہا ہوگا ، کوئی امریکہ سے آ رہا ہوگا ، کوئی پاکستان سے آرہا ہوگا۔کسی نے پگڑی پہنی ہوگی کسی نے ٹوپی، کسی نے ہیٹ۔اور جب وہاں اکٹھے ہوں گے تو آپ کو اس وقت محسوس ہوگا کہ لباس میں فخر کا کوئی سوال ہی نہیں۔مختلف قوموں کے فطری تقاضے ہیں۔نہ وہاں