خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 34

خطبات طاہر جلداول برائی کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔34 =4 خطبہ جمعہ ۲؍ جولائی ۱۹۸۲ء تو شاكلة کی اس سے بہتر کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔یہ مثال تو ایک ادنیٰ مثال ہے لیکن اس کے پیچھے جو روح کارفرما ہے وہ بہت عظیم ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ساری سیرت میں ہمیشہ یہی روح کارفرما رہی۔آنحضرت علی نے ہمیشہ دشمنوں سے دکھ اٹھائے اور جانتے ہوئے کہ یہ پھر بھی دکھ دینے والے ہیں ان سے احسان اور کرم اور رحم کا سلوک فرمایا۔اور یہ ایک لمبی داستان ہے اس وقت اس کے بیان کا موقع نہیں۔گرمی کی شدت ہے۔رمضان شریف کا بھی تقاضا یہی ہے۔صرف یہ اشارہ کافی ہے کہ احمدیوں کیلئے صرف ایک نمونہ ہے، ایک شاكلة ہے، ایک ہی قالب ہے، ایک ہی سانچہ ہے جس میں ہم نے ڈھلنا ہے اور ہمیشہ ان دیواروں کی اس چار دیواری کی حفاظت کرنی ہے اور اس سے باہر سر مو بھی قدم نہیں رکھنا۔دوسرا پہلو شاكلة کا انفرادی ہے۔اس عمومی سنت محمد مصطفی عملے کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی ہر انسان کی ایک انفرادیت ہوتی ہے۔ابوبکر بھی سنت محمد مصطفی ملالہ پر ہی چلنے والے تھے لیکن ان کا ایک اپنا رنگ تھا۔عمر بھی تو سنت محمد مصطفی " پر ہی چلنے والے تھے لیکن ان کا ایک اور رنگ تھا۔عثمان بھی سنت محمد مصطفیٰ ہی کے عاشق تھے لیکن ان کا بھی ایک اپنا رنگ تھا اور علی بھی محمد مصطفی " ہی کے غلام تھے لیکن ان کا بھی ایک الگ رنگ تھا۔كُلُّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ۔وہ اپنی انفرادیت کی وجہ سے مجبور تھے کہ سنت کا جو تصور ان کے دل میں تھا اور ان کا ذاتی قالب سنت کو جس صورت میں قبول کر رہا تھا اسی طرح اس رنگ کو اپنے اندراختیار کریں اور اسی طرز کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی شاكلة کے اندر رکھ دی تھی۔تو ایک ہوتے ہوئے بھی یعنی سنت محمد مصطفیٰ" کے ایک ہی رنگ میں رنگین ہونے کے باوجود ہر ایک کا الگ الگ رنگ بھی تھا جیسا کہ کہا گیا ہے۔رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جدا ہے ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہئے (دیوان غالب) تو محمد مصطفی ﷺ کے عشاق نے ہر رنگ میں بہار کا اثبات کیا۔اور ویسے بھی یہ ناممکن تھا کہ آنحضور ﷺ کی سیرت کا بحر ذخار کسی ایک وجود میں اکٹھا ہو جاتا۔اتنا ہی بڑا ظرف بھی تو ہونا چاہئے تھا۔اس لئے اپنی اپنی توفیق ، اپنی اپنی حیثیت، اپنی اپنی شاكلة کے مطابق لوگوں نے