خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد اول 3 33 خطبہ جمعہ ۲/ جولائی ۱۹۸۲ء تو فرما يا كُلَّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَتُكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا که یه بات تو تقدیر الہی ہی ظاہر فرمائے گی کہ وہ کون ہیں جو نجات پانے والے اور ہدایت پانے والے ہیں۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پیروکار اور آپ کی سنت پر عمل کرنے والے یا اس سنت سے ہٹ کر مخالفانہ اور معاندانہ سلوک کرنے والے۔پس جماعت احمد یہ کیلئے اس میں بہت سبق ہے۔ہر قسم کے دکھ اور مشکلات اور مصیبتوں اور عناد اور گالیوں اور تکلیفوں کے مقابلے میں آپ کیلئے صبر اور رضا اور دعائیں کرنا اور اپنے دشمنوں کی بھلائی چاہنا ، دکھ دینے والوں کے لئے دکھ محسوس کرنا ، غصے کا کوئی سوال نہیں ہمیشہ دل میں رحمت کے جذبات کو پرورش دینا اور رحیمانہ سلوک کرنا، یہ ہے ہمارے مقدر کی بات۔اور ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اس سے ہٹنا ہمیں نصیب نہ ہو۔اور ہم میں سے کمزور سے کمزور انسان کے بھی پائے ثبات میں لغزش نہ آئے اور وہ اس فلاح کے یقینی راستے پر ثبات قدم کے ساتھ قائم رہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی راستے پر قائم و دائم رکھے۔آمین دنیا میں بعض چیزوں کو مثالوں کی صورت میں واضح کیا جاتا ہے۔اس طریق کار کو بھی ہماری زبان میں ایک مثال اور ایک کہاوت کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔لوگوں کو سمجھانے کی خاطر میں وہ مثال ان کے سامنے رکھتا ہوں۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک گائے دریا پار کر رہی تھی تو ایک بچھوڈوب رہا تھا۔اس نے اپنی دم کے ذریعے اس کو اٹھا کر اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا۔جب وہ ، دوسرے کنارے پہنچی تو پیشتر اس کے کہ بچھوا تر کرخشکی کی راہ لیتا اس نے اسے ڈنک مارا۔کہانی میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک خرگوش ساحل پر بیٹھا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔اس نے گائے سے کہا تم بڑی بیوقوف ہو۔ایسے ظالم، ایسے موذی کونجات دی اور جانتی نہیں تھی کہ یہ تم سے ظلم کا سلوک کرے گا، نیکی کا بدلہ برائی سے دے گا۔تو گائے نے جواب دیا کہ بھائی میں بیوقوف نہیں ہوں۔میرے رب نے مجھے ایسا ہی بنایا ہے اور اس سے میں انحراف نہیں کر سکتی۔میری فطرت خدا تعالیٰ نے اس طرح بنائی ہے کہ میں دودھ پلاتی ہوں تم لوگوں کو اور پھر تم لوگ میرا گوشت بھی کھاتے ہو۔مجھ سے ہر قسم کے فائدے اٹھاتے ہو۔ہل میں جوتی جاتی ہوں اور جب کسی کام کی نہیں رہتی تو پھر تم مجھے ذبح کر دیتے ہو، قصائی کے سپر د کر دیتے ہو۔تو میرا تو مقدر ہی یہ ہے کہ تم لوگوں کی بھلائی کی خاطر پیدا کی گئی ہوں۔اس بدقسمت کا مقدر یہ ہے کہ یہ