خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد اول 340 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۲ء معنے نہیں رکھتی۔عبادت نقطہ عروج ہے مومن کے مقاصد کا۔اگر عبادت کا حق ادا نہ کیا گیا تو یہ جلسہ اپنی تمام شان و شوکت کے باوجود ویران ہوگا۔اس لئے میں ایک دفعہ پھر جماعت کو اس ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔گھروں میں خاص طور پر اس بات کا چرچا ہونا چاہئے اور ابھی سے یہ عزائم ہونے چاہئیں کہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ نمازوں کے اوقات میں گھروں کو خالی کریں گے اور مساجد کو بھرا کریں گے۔اس سلسلے میں انتظامیہ بھی مدد کر سکتی ہے۔ہر محلے کی انتظامیہ اپنے محلے کے ہر گھر کو ایسا چارٹ مہیا کرے جس کو گھر والے دیوار پر آویزاں کر سکیں اور اس چارٹ پر ان کی قریبی مسجد کے اوقات صلوۃ لکھے ہوں تا کہ ہر وقت اہل خانہ کو یاد دہانی ہوتی رہے۔پھر یہ بھی لکھا ہو کہ آپ کی مسجد اس قدر فاصلے پر ہے۔اگر آپ نماز سے دس پندرہ منٹ پہلے اپنے مہمانوں کو توجہ دلا دیں اور کھانے کے اوقات ایسے رکھیں جو نماز کے اوقات میں مخل نہ ہوں تو یہ ایک بہت بڑی خدمت ہوگی اور بہت بڑی سعادت ہوگی۔اسی طرح جلسے کے اوقات بھی لکھے جائیں اور پھر شام کے پروگرام بھی درج ہوں اور توجہ دلائی جائے کہ آپ اپنے مہمانوں کی مہمان نوازی کا حق ادا نہیں کر سکتے جب تک اس مقصد میں ان کے ممدو معاون نہ ہوں جس کی خاطر وہ تکلیف اٹھا کر باہر سے تشریف لائے ہیں اور وہ مقصد جلسہ میں حاضر ہونا اور تقریروں سے استفادہ کرنا ہے۔پس اگر آپ کے ناشتے ، کھانے اور مجلسوں نے ان کو اس مقصد سے ہی محروم کر دیا تو پھر اس میز بانی کا کیا فائدہ؟ پھر تو یہ میز بانی نہیں ہوگی بلکہ ایک ظلم ہو جائے گا۔یہ چارٹ چھپے ہوئے نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے ملیں گے۔نظارت محلوں کو مہیا کر سکتی ہے۔اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا پمفلٹ (جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ) جو نمازوں کے اوقات اور نصائح پر مشتمل ہو شامل کر کے ہر گھر میں تقسیم کریں۔یہ انتظام انشاء اللہ بہت مفید ہوگا۔اسی طرح جلسہ کے دنوں میں صبح کے وقت نماز کے لئے جگانے کا انتظام ہو۔جس طرح عموماً اطفال الاحمدیہ صبح کے وقت صَلِّ عَلى نَبِيِّنَا صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ پڑھتے ہوئے نمازوں کے لئے جگاتے ہیں، اس وقت بھی خصوصیت کے ساتھ اطفال الاحمدیہ کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہ سارے ربوہ میں درود کا ایک شور برپا کر دیں اور تہجد کے وقت سے لے کر نماز فجر کے وقت تک ایک عجیب منظر ہمیں نظر آئے۔لذت نگاہ بھی پیدا کرے اور لذت گوش بھی۔کانوں کے لئے بھی لذت کا سامان