خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد اول 192 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء (سنن ابی داؤد کتاب الصلوة باب الامہ البر الفاجر ) کیا ہی حسین تعلیم ہے اور یہ کتنی خوبصورت اور سلامتی والی ہے۔اسی وجہ سے اسکا نام اسلام ہے۔اسکا مطلب ہے سلامتی۔اس سے امن پھیلتا ہے۔یہ سلامتی لاتی ہے اور سلامتی کا پیغام دیتی ہے۔اسلام میں کوئی تفرقہ قابل قبول نہیں۔چنانچہ حضوراکرم ﷺ کی تعلیمات کی اس روح کے ساتھ آپ اپنے امیر اور دیگر عہدیدار ان کی پیروی کریں۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ انہیں متقی سمجھتے ہیں یا نہیں۔یہ آپ کا کام نہیں کہ اس بارہ میں کوئی رائے دیں۔یہ بعد الموت اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اب میں امراء کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ان کے بھی کچھ فرائض ہیں۔عہد یداران کے اپنے کچھ فرائض ہیں۔ان کا ان لوگوں سے شفقت کا سلوک ہونا چاہئے جن پر وہ نظام کو چلانے کے لئے مقرر ہوئے ہیں۔لوگوں کو امیر کی اطاعت اسکی ذاتی استعداد کی بجائے محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کرنی چاہئے۔اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے اور اس لئے کہ انہیں خلیفہ مسیح نے مقررفرمایا ہے۔کسی اور وجہ سے نہیں۔وہ تمام نظام کی اس لئے پیروی کریں کہ یہ نظام خلیفہ المسیح کا مقررفرمودہ ہے۔انہوں نے ہراحمدی کی بیعت نہیں کی صرف خلیفہ المسیح کی بیعت کی ہے۔چنانچہ ہر امر اس کے ہاتھ سے نکلتا ہے اور احمدی اسکی اس لئے پیروی کرتے ہیں کہ وہ ان کے ایمان کا حصہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں ان کی اطاعت بالآخراللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے نہ کہ کسی انسان کی۔چنانچہ انہیں خلیفہ مسیح نے ذمہ داری سونپی ہے۔اس لئے انہیں اس طاقت کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔میں ایسے امیر کو نا پسند کرتا ہوں جولوگوں پر شفقت نہ کرے کیونکہ جماعت کا خلیفہ سے براہِ راست رابطہ ہوتا ہے۔اس سے ان کا ذاتی تعلق ہوتا ہے اور دراصل خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے علاوہ اس کے پیچھے کوئی اور مقصد نہیں۔مگر وہ امیر کی اطاعت اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کا تقرر خلیفہ المسیح نے فرمایا ہے۔وہ تمام نظام کی اطاعت اسی لئے کرتے ہیں کہ یہ نظام خلیفہ المسیح کا قائم فرمودہ ہے۔انہوں نے ہر احمدی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی بلکہ صرف خلیفہ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کی ہے چنانچہ ہر چیز اسی کے ہاتھ پر مرتکز ہوتی ہے اور وہیں سے پھوٹتی ہے اور احمدی اسکی پیروی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کے ایمان کا حصہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا دراصل وہ کسی ایک انسان کی پیروی کی بجائے