خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 193
خطبات طاہر جلد اول 193 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء اطاعت کر رہے ہوتے ہیں۔چونکہ خلیفہ المسیح نے انہیں بعض اختیارات تفویض کئے ہیں اس لئے انہیں ان مفوضہ اختیارات کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے۔میں کسی ایسے امیر کو جو لوگوں کا ہمدرد نہیں ہے مقرر کرنا بالکل پسند نہیں کرتا۔کیونکہ خلیفہ کا سب احمدیوں سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے اور انہیں اس لئے اسکی اطاعت کے لئے نہیں کہا جاتا کہ وہ اس سے کمتر ہیں۔بلکہ صرف نظم وضبط قائم رکھنے کے لئے اطاعت کے لیے کہا جاتا ہے۔نہ کہ کسی اور وجہ سے مگر نظم و ضبط کا مطلب تختی اور غیر ہمدردانہ رویہ نہیں ہے۔میں خود کو کسی ایسے امیر کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں سمجھتا جو احمدیوں سے اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کرتا جو مجھے پسند ہے۔چنانچہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی مشنری انچارج، کوئی صدر اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے۔کیونکہ اگر وہ ان احمدیوں کو جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ان کی اطاعت کرتے ہیں تکلیف دیں گے تو دراصل وہ مجھے تکلیف پہنچائیں گے اور وہ اللہ کے راستہ سے بھٹک جائیں گے۔صل الله یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔آپ کو اس اعتماد پر جو آپ پر کیا گیا ہے پورا اترنا چاہئے۔اور اس طرح سلوک کرنا چاہئے جیسا حضرت محمد ﷺ کا اپنے صحابہ سے تھا۔حضور اکرم علی سے بڑھ کر اس دنیا میں کسی شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔دنیا میں آپ سے بڑھ کر کسی اور کے اختیارات کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آپ اللہ تعالی کی نمائندگی میں مبعوث ہوئے تھے اور آپ کی طرح کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کی اس رنگ میں نمائندگی کا دعویٰ نہیں کیا۔اس لئے اگر بعض افراد اسلامی نظام پر معترض ہوتے ہوئے اسے آمریت سے تعبیر کرتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔کرہ ارض پر کوئی شخص دنیوی اصطلاح کی رو سے کوئی ایسی آمرانہ حیثیت یا آمریت کا دعویٰ نہیں کر سکتا جس قسم کا روحانی اقتدار اعلیٰ حضور اکرم ﷺ کو نبوت کے بعد من جانب اللہ عطا ہوا۔جہاں تک دنیوی آمریت کا تعلق ہے اس کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔اسلام کی رو سے کسی مقتدر ہستی کی جتنی زیادہ طاقت یا قوت بڑھتی جائے گی اتنا زیادہ مقام خوف بڑھتا جائیگا کیونکہ بالآخر سب اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں۔نتیجہ طاقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خوف بہت بڑھ جاتا ہے۔چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے اس طاقت کو نہایت عاجزانہ طور پر استعمال فرمایا اور اتنے خوبصورت اور عمدہ انداز سے کہ آپ کی تمام زندگی پر کوئی انگلی بھی