خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 77
خطبات طاہر جلد اول 77 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۸۲ء مواقع ہیں۔ان کی طرف دھیان گیا تو کالج کے زمانے کی بہت سی باتیں یاد آئیں۔حضرت مصلح موعود کا ذکر میں ساتھ ساتھ کر رہا ہوں محبت کے انداز میں تاکہ حضور کے لیے دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو۔بظاہر مضمون سے انحراف ہے لیکن پھر میں واپس اس کی طرف آجاؤں گا۔حضرت صاحب سادگی کا معیار تو رکھتے تھے لیکن مہمان نوازی کے بہت اعلیٰ معیار کے قائل تھے۔ہماری والدہ بھی مہمان نواز تھیں لیکن ایک فطری رنگ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی براہ راست تربیت تو ان کو حاصل نہیں تھی نا۔لیکن حضرت مصلح موعود کو اصولوں کی ایسی گہری تربیت حاصل تھی کہ آپ کی مہمان نوازی کا معیار بہت بلند تھا۔چنانچہ بارہا میری موجودگی میں ایسے واقعات ہوئے کہ آپ نے میری والدہ کو سبق دیے کہ مہمان نوازی کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے، یہ بھی تقاضا ہوتا ہے۔چنانچہ وہ کوشش کرتی تھیں کہ اس رنگ میں رنگین ہو جائیں۔عورتوں کو یادیں ہیں۔بہت لوگوں کو یا دیں ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ میری والدہ ہی مہمان نواز تھیں یہ پتہ نہیں تھا کہ پیچھے ہاتھ کونسا کام کر رہا تھا؟ ان چیزوں کو کون صیقل کر رہا تھا ؟ ایک دفعہ کی بات ہے حضرت صاحب تشریف لائے اور کہا کہ فلاں چیز میں نے دی تھی ، وہ ہے؟ مہمان آگئے ہیں۔امی نے کہا نہیں ، وہ تو ختم ہوگی۔حضور نے فرمایا کچھ لاؤ، مہمان آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا اس وقت تو کچھ بھی نہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ آئندہ ایک بات یادرکھنا کہ جن گھروں میں اچانک آنا جانا ہو وہاں مہمان نوازی کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیشہ کچھ پس انداز کر کے رکھا جائے اچا نک وقت کے لیے ، چاہے دال روٹی ہو، چاہے چنے ہوں لیکن ایسا وقت اس گھر پہ نہیں آنا چاہیے کہ کچھ بھی نہ ہو۔ورنہ پھر انسان مہمان نوازی کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔چونکہ یہ تربیت کا رنگ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود کے سارے بچوں میں، ہماری بہنوں میں بھی ، بھائیوں میں بھی انکی تو فیق کے مطابق مہمان نوازی کا جذبہ پیدا کیا۔اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔اب اس مادے کا ٹکراؤ بعض دفعہ اقتصادی حالات سے ہو جاتا ہے۔جب ہم کالج میں تھے تو اتنا سا وظیفہ ملتا تھا کہ یا مہمان نوازی کریں یا کپڑے پہنیں۔دو چیزیں اکٹھی تو نہیں چل سکتی تھیں۔چنانچہ عادةً ، فطرۃ تربیت کا اثر تھا کہ جو ہمارے کالج میں آنے جانے والے دوست تھے ان کے ساتھ