خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 4

خطبات طاہر جلد اول 4 خطبہ جمعہ اا/ جون ۱۹۸۲ء اپنے دلوں سے محسوس کیا۔اور اس نظارہ کو دیکھ کے روحیں سجدہ ریز ہیں خدا کے حضور اور حمد کے ترانے گاتی ہیں۔پس دکھ بھی ساتھ تھا اور حمد وشکر بھی ساتھ تھا اور یہ ا کٹھے چلتے رہیں گے بہت دیر تک۔لیکن حمد اور شکر کا پہلو ایک ابدی پہلو ہے۔وہ ایک لازوال پہلو ہے۔وہ کسی شخص کے ساتھ وابستہ نہیں۔نہ پہلے کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ تھا، نہ میرے ساتھ ہے نہ آئندہ کسی خلیفہ کی ذات سے وابستہ ہے وہ منصب خلافت کے ساتھ وابستہ ہے۔وہ ، وہ پہلو ہے جوزندہ و تابندہ ہے۔اس پر کبھی موت نہیں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ہاں ایک شرط کے ساتھ اور وہ شرط یہ ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ (نور :۵۶) کہ دیکھو اللہ تم سے وعدہ تو کرتا ہے کہ تمہیں اپنا خلیفہ بنائے گا زمین میں لیکن کچھ تم پر بھی ذمہ داریاں ڈالتا ہے۔تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح بجالاتے ہیں۔پس اگر نیکی کے اوپر جماعت قائم رہی ، اور ہماری دعا ہے اور ہمیشہ ہماری کوشش رہے گی کہ ہمیشہ ہمیش کیلئے یہ جماعت نیکی پر ہی قائم رہے، صبر کے ساتھ اور وفا کے ساتھ تو خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ وفا کرتا چلا جائے گا اور خلافت احمد یہ اپنی پوری شان کے ساتھ شجرہ طیبہ بن کر ایسے درخت کی طرح لہلہاتی رہے گی جس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔اس کے ساتھ ہی ایک اور پہلو کی طرف بھی میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جب کوئی وصال کا واقعہ ہوتا ہے یا وداع کا واقعہ ہوتا ہے تو لوگ ریزولیوشن پیش کیا کرتے ہیں اور ریزولیوشنز میں لفاظیاں بھی ہوتی ہیں مبالغہ آرائیاں بھی ہوتی ہیں۔لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کی روایات کا تعلق ہے، میں نے بہت نظر دوڑا کر دیکھا ہے اور میں یقین کے مقام پر کھڑے ہو کر یہ بات کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کو بعض دفعہ مبالغے کا سوال نہیں ، پورے مافی الضمیر کے اظہار کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔اور جو بھی جذبات ہوتے ہیں ، بچے جذبات کا اظہار کرنے کی جماعتیں کوشش کرتی ہیں۔اس دفعہ بھی یہی کوشش ہوگی۔ایک جانے والے کو وداع کہا جائے گا اور ایک آنے والے کو اھلا و سهلا و مرحباً کہ کر پکارا جائے گا۔لیکن میں ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ریز ولیوشنز میں ایک تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمارا ہر قول سچا ہوتا ہے پھر بھی