خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد اول 147 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء ضرورت ہوتی ہے۔یہ تو دنیا کے ہر آدمی کو پتہ ہے کہ ایٹم بم کو پھاڑنے کے لئے بھی کم سے کم ایک وزن کی ضرورت ہے۔اس سے کم ہو تو وہ طاقت ضائع ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ Chain Reaction پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس Chain Reaction کے لئے جتنی تعداد میں احمدیوں کی ضرورت ہے وہ ابھی تک ہمیں مہیا نہیں ہو سکے۔کیسے مہیا ہوگی؟ اتنا شرک ہے۔اتنا ماحول پر دنیا کا اثر ہے۔دہریت گھر گھر میں داخل ہو رہی ہے سیاسی تو جہات نے عقلوں کو اور ذہنوں کو غلط سمتوں میں مائل کیا ہوا ہے۔معاشرے کی آزادیاں، دنیا کی لذتیں۔یہ سارے بت چاروں طرف سے ان سوسائٹیوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔تو بہت فکر پیدا ہوتی ہے کہ اے خدا اس مسجد کی آبادی کا تو انتظام کر۔میں تو یہی دعا کرتا رہا ہوں جہاں بھی گیا ہوں دیکھ کر ایسی بے بسی کا احساس ہوا ہمیشہ اور پھر میں نے یہی عرض کی کہ اے خدا! اگر توفیق ہوتی تو میں سجدے کرتے ہوئے ان راہوں پر چلتا۔میں تیرے حضور خاک ہو کر مٹ جاتا یہاں۔اے خدا ! تو نمازی بخش۔تو عبادت کرنے والے عطا فرما۔کیونکہ خالی مسجد میں بنانا تو کوئی کام نہیں ، جب تک یہ مسجدیں خالص عبادت کرنے والوں سے نہ بھر جائیں۔لیکن ہمارے اندر کوئی طاقت نہیں میرے رب ! آپ بھی یہ دعائیں کریں جب تک یہاں ہیں سپین کی مٹی کو اپنے آنسوؤں سے تر کریں۔اتنے آنسو بہائیں کہ خدا کی تقدیر کی رحمتیں بارش کی طرح برسنے لگیں اس ملک پر۔ہر آنسو سے وہ روحیں پیدا ہوں جو اسلام کے لئے ایک انقلاب کا پیغام لے کر آئیں۔ہر آنسو سے ابن عربی نکلیں ، ہر آنسو سے ابن رشد پیدا ہوں۔آج ایک ابن عربی کا کام نہیں۔آج تو قریہ قریہ بستی بستی ابن عربی کی ضرورت ہے۔اس لئے یہ کام نہ آپ کے بس میں ہے نہ میرے بس میں ہے۔صرف ہمارے آقا، ہمارے رب کے بس میں ہے اور ہمارے بس میں صرف آنسو بہانا ہے اور یہ ہمیں ضرور کرنا ہوگا۔پوری گر یہ وزاری کے ساتھ ، انتہائی عاجزی کے ساتھ اور انکساری کے ساتھ روئیں خدا کے حضور اور جب قطرے ٹپکیں زمین پر تو دعا کریں کہ اے خدا! ان قطروں کو ضائع نہ ہونے دینا۔ہر قطرے سے برکتیں پیدا ہوں۔ہر قطرے سے وہ روحانی وجود نکلیں جو سپین کی تقدیر کو بدل دیں۔اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر