خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 362

خطبات طاہر جلد اول 362 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۸۲ء ان سے یوں محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہر زخم کے اوپر اپنے فضل کا چھا یہ رکھ رہا ہے اور اپنے رحم وکرم کی مرہم لگا رہا ہے اور اس نے کوئی دکھ بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ان انتظامات سے پہلے اور اس تقریر سے قبل بعض لوگوں نے کچھ اندازہ لگا لیا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں اور کیا کہنا چاہتا ہوں۔بعض ڈرانے والوں نے مجھے ڈرایا کہ دیکھو! اتنی جلدی ایسی سختی نہ کرنا۔خطرہ ہے کہ بہت سی بچیاں اس سختی کو برداشت نہ کر کے ضائع ہو جائیں گی۔اس لئے دھیرے دھیرے، رفتہ رفتہ ، آہستہ آہستہ قدم اٹھاؤ۔میں نے ان سے کہا کہ اب آہستگی کا وقت نہیں رہا کیونکہ معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے۔آج فوری اقدام کی ضرورت ہے۔اور دوسرے یہ کہ تم جو یہ مشورہ مجھے دیتے ہو، تم مجھ پر بھی بدظنی کر رہے ہو اور احمدی بیٹیوں پر بھی بدظنی کر رہے ہو۔میں تو اس آقا کا غلام ہوں جس نے کھوئی ہوئی بازیاں جیتی ہیں اور دعا کی تقدیر سے تدبیر کے پانسے پلٹے ہیں اور یہ بچیاں بھی اسی آقا کی غلام ہیں جس کی آواز پر اس کے غلاموں نے جاں شاری کے ایسے نمونے دکھائے کہ دنیا ان کو دیکھتی ہے تو باور نہیں کر سکتی کہ دنیا میں ایسی جاں نثار قوم کبھی کبھی پیدا ہوسکتی ہے۔اس وقت میرا ذ ہن جنگ حنین کی طرف منتقل ہوا اور میں نے سوچا کہ کس طرح مسلمان فوج کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اور سواریاں بے قابو ہوئی جاتی تھیں یہاں تک کہ آنحضور علیہ صرف چند غلاموں کے درمیان تنہا رہ گئے۔آپ اس وقت ایک سفید خچر پر سوار تھے۔سب سے پہلا رد عمل تو آپ کا یہ ہوا کہ وہ دشمن جو صحابہ کے پیچھے دوڑ رہا تھا اس کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ایک حیرت انگیز کردار ہے حضوراکرم ﷺ کا، جس کو دیکھ کر روح سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔خدا نے ہمیں کتنا عظیم الشان آقا عطا فرمایا ہے۔یعنی سب سے پہلے اس توجہ کو مسلمانوں سے ہٹا کر اپنی طرف منتقل فرمایا اور ایک شعر کی صورت میں یہ اعلان شروع کر دیا کہ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ کہ اے کفار! تم کدھر بھاگ رہے ہو۔اسلام کی جان تو میں ہوں۔اگر نبی کی دشمنی تمہیں ان لوگوں کو ہلاک کرنے پر آمادہ کر رہی ہے تو ادھر آؤ یہ نبی یہاں ہے۔اور اگر کسی کو عبد المطلب کے خاندان سے دشمنی ہے یا کوئی اور وجہ ہے تو عبد المطلب کی اولاد کا سربراہ یا عبدالمطلب کی اولاد کی جان یہاں موجود ہے۔ان کو چھوڑو اور میری طرف آؤ۔ایسے خطر ناک وقت میں دشمن کو اپنی طرف متوجہ کرنے