خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد اول 327 خطبه جمعه ۱۰ رو نمبر ۱۹۸۲ء ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے گرد سارے گھر اکٹھے ہوئے ہوں۔تو اس طرح بجائے اس کے کہ گھروں میں یہ باتیں ہوں کہ آج کا جلسہ کیسا رہا اور آئندہ کیلئے سکیمیں بنائی جائیں کہ ان تقریروں کے نیک اثر سے ہم اپنے اندر کیا تبدیلی پیدا کریں گے، مجلسوں کو لغو مجلسوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ہر جگہ تو یہ نہیں ہوتا لیکن میری آنکھ نے دیکھا، میرے کانوں نے سنا کہ واقعتہ یہ رجحان پیدا ہو رہا ہے اور بڑھ رہا ہے تو اس کی بیخ کنی کی بھی ضرورت ہے۔پھر جوسب سے بڑی خطرناک بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مجالس عبادت کے رستہ میں حائل ہونے لگ جاتی ہیں یعنی نمازوں کے اوقات ہیں اذانیں دی جا رہی ہیں لیکن گھروں کی مجلسیں اسی طرح قائم رہتی ہیں اور بڑے بھی اور چھوٹے بھی بے تکلفی کے ساتھ آپس میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف رہتے ہیں اور کسی کو خیال نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے بلایا جا چکا ہے۔ہمیں مسجدوں میں جانا چاہئے۔کسی کو سے مراد صرف بعض ان گھروں کی بات ہے جہاں ایسا ہوتا ہے یعنی ان گھروں میں کسی کو خیال نہیں آتا ور نہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا ہی پیار انظارہ ہوتا ہے۔بعض مسجدیں تو چھلک جاتی ہیں اور وہاں نمازیوں کو اندر جگہ نہیں ملتی۔لیکن اس کے باوجود مسجدوں کو جتنا بھر کر باہر چھلکنا چاہئے اتنا نہیں چھلکتیں کیونکہ ربوہ کی مساجد تو ربوہ کی عام ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔کچھ اس سے وسیع تر ہوں گی۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن اتنی نہیں کہ سارے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو سمو سکیں۔مسجد مبارک میں تو یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ باہر صحن تک نمازی پہنچ جاتے ہیں بلکہ صحنوں سے باہر نکل جاتے ہیں لیکن بہت سی دوسری مساجد میں میں نے دیکھا ہے کہ نمازوں کے اوقات میں صحنوں سے باہر نمازی نہیں نکلتے۔حالانکہ اگر سارے نماز پڑھنے والے ہوں تو کوئی وجہ ہی نہیں ہے کہ ان مساجد کے اندر اس وقت کی ساری آبادی سما سکے۔یعنی وہ آبادی جن کو مسجدوں میں جانا چاہئے اور جن کو مسجدوں میں جا کر نمازیں پڑھنی چاہئیں۔تو اس طرف بھی بڑی توجہ کی ضرورت ہے۔جلسہ کے اوقات میں ایک بڑی قابل فکر بات یہ ہے کہ جس وقت جلسہ ہورہا ہوتا ہے اس وقت بھی میلے ٹھیلے کا رجحان بعض جگہوں میں اپنے طور پر جاری رہتا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ دوست بڑی تکلیف اٹھا کر باہر سے آتے ہیں۔بڑی بڑی دور سے خرچ کر کے آتے ہیں سردی کی تکلیف