خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 238
خطبات طاہر جلد اول 238 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء ہیں اور اللہ کے غضب کی راہیں ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ حمد کے راستہ سے ہم کس طرح داخل ہوتے ہیں اور رحمانیت کی راہ سے خدا تک پہنچنے کا اور رحیمیت کی راہ سے خدا تک پہنچنے کا مطلب کیا ہے۔اس کے تین پہلو ہیں۔اوّل۔نظریاتی لحاظ سے انسان کلیہ یہ تسلیم کرے کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ساری حمد خالصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رب بھی ہے ، رحمان بھی ہے، رحیم بھی ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے۔پھر یہ ایک الگ مضمون شروع ہو جاتا ہے اس کو میں فی الحال چھوڑ کر اصل مضمون کی طرف جلد مائل ہونا چاہتا ہوں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ نظریہ دل پر وارد ہو جائے اور دل کے جذبات پر بھی قابض ہو جائے۔یعنی انسان حمد صرف زبان سے نظریہ کے طور پر بیان نہ کرے۔بلکہ دل اس حمد کو محسوس کرے اور ایک لذت پائے اور ایک محبت محسوس کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ایک جوش پائے۔یہ حمد کی دوسری شکل ہے۔یعنی ذہن سے دل میں ڈوبتی ہے اور نظریہ ایک محبت کی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔جذبات کی شکل میں وہ نظریہ موجزن ہو جاتا ہے اور پھر ربوبیت سے اپنا تعلق جوڑتا ہے۔رحمانیت سے اپنا تعلق جوڑتا ہے جس طرح گتا اپنے مالک کے قدموں میں پیار سے لوٹتا پوٹتا ہے اس طرح جب حمد کا یہ تصور دل میں آتا ہے تو کروٹیں لینے لگتا ہے۔تبدیل ہونے والی یا لوٹنے پوٹنے والی چیز کو قلب کہتے ہیں۔پس حقیقی قلب اس وقت بنتا ہے جب اللہ کے قدموں میں یہ لوٹتا ہے اس کی حمد کی وجہ سے۔اس کی حمد سے غیر معمولی طور پر مغلوب ہو کر یہ خدا کے قدموں میں کروٹیں بدلتا ہے پیار کے اظہار کرتا ہے۔کبھی اس کی ربوبیت پرواری جاتا ہے کبھی اس کی رحمانیت پر اور کبھی اس کی رحیمیت پر۔اور اس طرح پھر انسان آخر ما لک یوم الدین تک پہنچ جاتا ہے۔اس کا تیسرا درجہ اعمال کا درجہ ہے۔حمد کی یہ دونوں شکلیں تب سچی قرار دی جائیں گی اگر ان کا اعمال پر بھی اثر پڑے اور اگر اعمال پر اثر نہیں پڑتا تو محض جذباتی تصویر میں ہیں۔ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔پھر اعمال کی وہ راہ ہے جس کے لیے انسان کے سامنے بہت ہی مشکلات پیش آتی ہیں۔وہ کہنے کو تو یہ کہ دیتا ہے اللہ رب ہے لیکن اس ربوبیت کا مظہر بننے کی راہ میں جب دقتیں پیش آتی ہیں تو اس وقت سمجھ آتی ہے کہ منہ سے تعریف کرنا اور چیز ہے دل سے محسوس کرنا اور چیز ہے اور