خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد اول 142 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء واقعہ یاد آ گیا۔ہمارے ایک سی۔ایس۔پی کے افسر ہوا کرتے تھے۔انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ مصر گئے تو قاہرہ میں ایک جنازہ جارہاتھا اور جنازے کے ساتھ صرف چار آدمی تھے جنہوں نے اس جنازے کو اٹھایا ہوا تھا اور دیکھنے میں وہ بوجھل جنازہ معلوم ہوتا تھا۔چنانچہ ان کے دل میں بہت ہمدردی پیدا ہوئی ان کیلئے۔اور ایک شخص کو ، جا کر انہوں نے ہٹا کر کندھا دینے کی کوشش کی۔انہوں نے زور مارا۔وہ آگے سے دھکے دینے لگا ان کو۔یہ بڑے متعجب کہ میں تو اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ سنتا ہی نہیں۔آخر ہمدردی کا جذبہ اتنا غالب آیا کہ انہوں نے دھکا دے کر اس کو الگ کیا اور خود اس کی جگہ جنازے کو کندھا دے دیا۔کہتے ہیں میں کر تو بیٹھا لیکن پھر کوئی نہیں آیا مجھے ہٹانے کیلئے۔عادت نہیں تھی بوجھ اٹھانے کی۔بالکل پس گیا۔اور قبرستان کوئی چار میل شہر سے باہر۔کہتے ہیں اس مصیبت میں مبتلا۔اس جنازے کو چھوڑا بھی نہ جائے۔زندگی اجیرن ہو گئی۔آخر جا کر جب جنازہ قبرستان میں رکھا تو ایک مزدور جو ان میں سے لیڈر تھا ( وہ تھے مزدور ) اس نے پیسے بانٹنے شروع کئے تو ان کا حصہ ان کو دیا۔تب ان کو پتہ لگا کہ یہ تو مزدور تھے ، یہ کوئی طوعی خدمت والے نہیں تھے۔انہوں نے کہا میں تو شوقیہ خدمت کے طور پر آیا تھا۔مجھے کیا پتہ تھا تم مزدور ہو۔تب سمجھ آئی کہ وہ دھکے کیوں دے رہا تھا بے چارہ ، جس کی مزدوری انہوں نے چھین لی۔تو مجھے خیال آیا کہ ایک جنازے کے بوجھ میں ایک ایسا شخص جو کوئی خاص دیندار بھی نہ ہو، اس کو اتنی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ برداشت نہیں کر سکتا یہ نظارہ کہ صرف چار آدمی اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہوں۔کیسے تعجب کی بات ہے کہ احمدی کہلا کر ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر تجدید بیعت کر کے، یہ وعدے کر کے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔یہ عہد و پیمان باندھ کر کہ ہم دوبارہ اسلام کی کشتی کو پار لگانے کے لئے اپنے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے، اپنے جسموں کو بھی غرق کرنا پڑا اس راہ میں تو غرق کر دیں گے تاکہ اسلام کی کشتی کا میابی اور کامرانی کے ساتھ پار ہو سکے، اس کے باوجود دیکھتے ہیں کہ جماعت کے چند آدمی اس بوجھ کو اٹھا رہے ہیں جو کھوکھہا کیا کروڑوں کا کام ہے کہ وہ اٹھا ئیں اور صرف چند آدمی ہیں جو اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا۔کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔کوئی انسانی ہمدردی کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔کوئی احساس ندامت دل میں پیدا نہیں ہوتا کہ ہم بھی تو اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم نے بھی تو وہی وعدے کئے