خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 87
خطبات طاہر جلد اول 87 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۸۲ء تھا اور ہم اسی طرح گزارا کرتے تھے تا کہ میراج کا شوق پورا ہو جائے۔ایک دن ہمسائے سے گوشت کی خوشبو آئی۔گوشت پکنے کی بڑی اچھی مہک اٹھی (اور بھو کے کوتو یہ خوشبو اور بھی اچھی لگتی ہے ) میری بیوی نے کہا کہ دیکھو یہ تو ٹھیک ہے کہ مانگنا برا ہے لیکن ہمسائیگی کا بھی تو حق ہے نا جو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے۔تم دروازہ کھٹکھٹاؤ اور ان کو کہو کہ میرے بچے بھی ایسے ہیں جو بھوکے ہیں تم ان کے لئے تھوڑ اسا گوشت دے دو اس لطف میں ہم شریک ہوں گے اور خدا تمہیں جزا دے گا۔ہمسایہ باہر نکلا اور جب اس سے یہ کہا گیا تو اس نے بڑی لجاجت سے کہا کہ آپ مجھ سے یہ کام نہ کروائیں۔کچھ نہ پوچھیں۔یہ سمجھے کہ شائد جان بوجھ کر Avoid کرتا ہے۔اس بات کو ہٹانا چاہتا ہے اور گوشت نہیں دینا چاہتا۔اس نے پھر کہا بھائی اب میں مانگ بیٹھا ہوں میری عزت رکھ لو اور مجھے کچھ دے دو۔اس میں کیا حرج ہے۔اس نے کہا میرے لئے حلال ہے، تمہارے لئے حرام ہے، اس لئے نہیں دے رہا۔اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مومن کے لئے حلال ہو، ایک مومن کے لئے حرام ہو۔اس نے کہا ہو کیوں نہیں سکتا؟ قرآن کہتا ہے ہو سکتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب بھوک یہاں تک پہنچ جائے کہ فاقے کر رہے ہو تو اس وقت تمہارے لئے سو ر بھی حلال ہے کیونکہ خدا کی نظر میں زندگی کو فوقیت دی جائے گی۔اس وقت حلال و حرام کے قصے اٹھ جاتے ہیں۔تو مجھے اور میرے بیوی بچوں کو اتنے فاقے تھے کہ وہ وقت آ گیا تھا جب حلال و حرام کی قید خدا نے ہم سے اٹھالی۔اس وقت میں باہر نکلا تو ایک مرا ہوا گدھا دیکھا اس کا گوشت کا ٹا جو میں نے پکایا ہے۔اب تم کہتے ہو کہ ہم دونوں کے لئے کس طرح ایک حکم نہیں ہے؟ ہمارے لئے الگ الگ حکم ہے۔وہ موچی کہتے ہیں میرا دل ہل گیا۔میرے دل پر زلزلہ برپا ہو گیا۔میں نے کہا اے خدا ! میری ساری عمر کی محنتیں رائیگاں گئیں۔جبکہ میرا ہمسایہ بھوکا مر رہا ہے۔اس حج کا کیا فائدہ وہ حج میرے کس کام آئے گا۔اگر ہمسایہ گواہ ہو جائے گا مجھ پر کہ میں انسانیت کے ادنیٰ مقام پر بھی فائز نہیں۔اس نے جو پونچی تھی اٹھا کر اپنے ہمسائے کو دیدی اور حج کا ارادہ ترک کر دیا۔(تذکرۃ الاولیاء صفحہ ۱۰۸) عالم الغیب خدا ہے زمانوں سے بھی آزاد ہے، مکان سے بھی آزاد ہے۔جس دن یہ واقعہ ہوا بیت اللہ اس شخص کے گھر پہنچ گیا۔خدا وہاں چلا آیا کہ اے بندے تیری روح میرا طواف کرتی ہے۔تو دنیا کی قیدوں سے آزاد ہے میں تیرا حج قبول کرتا ہوں، میں لبیک کہتا ہوں تیری آواز پر۔یہ