خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 85 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 85

خطبات طاہر جلد اول 85 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء گواہ ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کہ ایسے لوگ آنے والے ہیں جو زمانی لحاظ سے بھی نہیں ملے اور مرا صلى الله املے اور مکانی لحاظ سے بھی نہیں ملے ۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے صحابہ علوم میں ان کا شمار ہوگا ۔ اب بتائیے ! سپین تو پھر بھی گر پڑ کے پہنچ جائیں گے مگر کیا کوئی چودہ سو سال واپس رض بھی جاسکتا ہے؟ اس مکہ میں جاسکتا ہے جہاں حضرت محمد مصطفی یا پھرا کرتے تھے اور اپنے رب کی خاطر دکھ اٹھایا کرتے تھے؟ اس مکہ میں جا سکتا ہے جہاں حضرت بلال گھسیٹے جاتے تھے گلیوں میں پتھریلی زمین پر؟ کوئی نہیں جا سکتا۔ اس مدینہ کی سیر نہیں ہو سکتی جو مدینہ تھا ظاہری طور پر ۔ اینٹ پتھر کے ان شہروں کی سیر تو ہوسکتی ہے مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہی خدا ہے جو دوبارہ ایسے واقعات پیدا فرمادے گا کہ آنے والی نسلیں جن کا زمانی لحاظ سے بھی بعد ہوگا اور مکانی لحاظ سے بھی بعد ہوگا اور قومی لحاظ سے بھی بعد ہو گا اور نسلی لحاظ سے بھی بعد ہوگا ۔ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ جب خدا کہتا ہے تو ہر چیز صلى الله صلى الله عروسه کٹ گئی ۔ لیکن ان کی ایک چیز نہیں کئی اور وہ ہے ان کی روح کے جذبات عشق جوان کو محمد مصطفی ع سے ہیں وہ جذبات انکو ایسے پر عطا کریں گے جن کے طفیل وہ محمد مصطفی ﷺ کے قدموں میں حاضر ہو جا ئینگے اور خدا آج گواہی دے رہا ہے کہ ایسی قوم آنے والی ہے۔ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ابھی تک تو نہیں آئے لیکن مل جائیں گے۔ حضوراکرم ﷺ کے غلاموں کے ساتھ ۔ پس وہ خدا جو زمان و مکان سے بالا ہے جب انسان اس کی تقدیر پر راضی ہو جاتا ہے ۔ جب اس کی رضا کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتا ہے تو اس کو بھی زمان و مکان سے بالا کیفیت عطا فرما تا صلى ہے۔ دور بیٹھے اس کے حج ہو جاتے ہیں ۔ بغیر ملے صحابی بن جایا کرتا ہے ۔ اگر اس کو حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرنے کی توفیق نہیں ملتی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی یا کا سلام اس تک پہنچ رہا ہوتا ہے۔ یہ ہے لِبَاسُ التَّقوی کا نتیجہ ۔ اس لباس سے عظیم الشان نتائج عطا ہوتے ہیں ۔ پس پیچھے رہنے والوں کو غم کیا ہے۔ ان کے درد کی وجہ سے دعا کی تو توفیق ملتی ہے لیکن تعجب بھی ہوتا ہے کہ وہ روکس بات پر رہے ہیں۔ کیا پتہ ہے ایسے جانے والے ہوں جن کو وہاں کی لذتیں اور سیرمیں زخمی بھی کر دیں۔ ان کے جانے کی نیتیں اور ہوں اور فائدہ اٹھانے کی بجائے نقصان اٹھا کر واپس آرہے ہوں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے۔ ابتلا بھی تو وہاں بڑے ہیں۔ نیتوں میں یہ بات شامل ہو کہ