خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد اول 84 == خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء پگڑی فخر کا موجب رہے گی، ٹوپی ذلت کا موجب نہ بیٹ کسی قسم کی فضیلت کا موجب رہے گا نہ لگے سر ہونا ہی کوئی معیوب بات نظر آئیگی کوئی افریقن لباس پہن کر آئے گا، کوئی امریکن ، کوئی انڈونیشین ،کوئی جاپانی، کیا چیز ہے جو قدر مشترک ہے جس نے احمدی کو ایک رنگ دینا ہے؟ وہ لِبَاسُ التَّقْوى ہے۔اس لئے اپنی یو نیفارم ساتھ لے کر جانا نہ بھولیں۔کیونکہ یونیفارم کے بغیر قو میں حسین منظر پیش نہیں کیا کرتیں۔یونیفارم اجتماعی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسی یونیفارم عطا فرما دی جو ہر ظاہری یونیفارم سے آزاد ہو چکی ہے اور وہ تقویٰ کا لباس ہے۔احمدی اپنے تقویٰ سے پہچانا جائے۔کسی رنگ میں ملبوس ہو، کوئی زبان بول رہا ہو۔دیکھنے والی نگا ہیں جان جائیں، معلوم کر لیں کہ یہ متقی لوگ پھر رہے ہیں۔یہ ہم سے مختلف قوم ہیں ، یہ خدا کے بندے ہیں، خدا کی طرف سے آئے ہیں، خدا کی خاطر آئے ہیں اور خدا کی طرف بلانے آئے ہیں۔یہ وہ اہم بات تھی جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا تھا۔سوچا تو آہستہ آہستہ مضمون پھیلتے پھیلتے کہیں سے کہیں نکل گیا۔میں نے کہا چلیں اپنی سوچ میں آپکو بھی شامل کرلوں کہ جو سیر میں نے کی ہے آپ کو بھی اس میں ہم سفر بنالوں کیونکہ پین کا سفر بھی ہم میں سے بہت سے اکٹھے کریں گے تو ان باتوں کو لوظ رکھتے ہوئے لباس التقوی کو پیچھے نہ چھوڑ جائیں۔دوسری بات میں ان لوگوں کے متعلق کہنی چاہتا ہوں جو پیچھے رہ جائیں گے ان میں سے بعض بڑا دکھ محسوس کر رہے ہیں۔مجھے بڑے دردناک خط آرہے ہیں، تڑپ رہے ہیں کہ کاش ! ہم بھی وہاں جاسکتے۔دعاؤں کے لئے لکھ رہے ہیں۔ان سب سے میں کہتا ہوں کہ آپ زمان و مکان سے بالا ہو چکے ہیں۔جس کا تعلق رب سے جڑ جائے جو زمان و مکان سے بالا ہے ،اس کے بندے بھی بسا اوقات زمان و مکان سے بالا ہو جایا کرتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے کہ اگر آپ تقویٰ کا لباس یہاں پہن لیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا جسم شریک نہ ہو آپ کی روح وہاں مسجد میں شریک ہو رہی ہو خدا کے نزدیک۔اور تاریخ اسلام میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ایسے ایسے عظیم الشان واقعات ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اس بات کے سب سے زیادہ گواہ آپ ہیں جو اس وقت یہاں احمدی بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ بھی جو یہاں موجود نہیں۔قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ آپ اس بات کے