خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد اول 79 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء اچھے درجے کا لباس ہے، وہ بھی مارا گیا۔ تولِبَاسُ التَّقوی رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کہیں یہ آپ کے پاس غربت میں آزمائش کے لئے آجاتا ہے، کہیں امارت میں آزمائش کیلئے آجاتا ہے ۔ اور ہر رنگ میں مومن کے لیے امتحان ہی امتحان ہے۔ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اب میں ایک اور طرف آپ کو لے جاتا ہوں ۔ وہ بھی اپنی یاد کے ساتھ وابستہ قصّہ ہے۔ اسی کے حوالے سے میں چند باتیں آپ سے عرض کرتا چلا جاؤں گا۔ جب میں انگلستان گیا تو وہاں میں نے انگریزی لباس پہنا۔ ہمارا پاکستانی عام سادہ لباس جو تھا وہ تو وہاں میرے نزدیک چل ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کا سنبھالنا بڑی مصیبت ہے۔ اب کون شلوار کو کلف دے اور استری کرے۔ اور پھر بڑا مہنگا پڑتا تھا۔ مجھے اس میں (یعنی انگریزی لباس پہننے میں ) کوئی باک نہیں تھی۔ میں سمجھتا تھا اگر اس کو (انگریزی لباس کو ) پہننے کی وجہ سے لوگ مجھے گنہگار سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ میں نے وہ لباس پہنا۔ جب واپس آنے لگا تو کسی نے کان میں یہ بات پھونکی کہ اب تم پاکستان جا رہے ہو، ربوہ پہنچو گے وہاں استقبال ہوگا اور یہ ہوگا ، وہ ہوگا ، اب تم شلوار قمیص اور اچکن پہن لو۔ میں نے کہا اب تو میں نہیں پہنوں گا ۔ اگر یہ لباس (انگریزی لباس ) میرے لیے گنہگاری کا لباس تھا تو پھر اس گنہگاری کا سب کو علم ہونا چاہئے ۔ یہ تو عجیب بات ہے کہ بارڈر بدلنے سے لباس بدل جائیں ۔ یہاں برقع پہنا ہو اور جب عورت یورپ کے سفر پر جائے تو برقع یہاں چھوڑ جائے کہ یہ بارڈر کر اس (Cross) نہیں کر سکتا ۔ یا اچکن وہاں بارڈر کراس کر ۔ نہ کر سکے اور پتلون وہاں سے ادھر بارڈر کراس نہ کر سکے یہ تو تمسخر ہو گیا دین تو نہ ہوا۔ اور آگے جا کر مجھے اس بات کا بہت لطف آیا ۔ جب میں ربوہ سٹیشن پر پہنچا تو خدام الاحمدیہ نے بڑا استقبال کیا ہوا تھا کیونکہ میں کافی دیر وہاں قائد رہا ہوں ۔ اور میں نے دیکھا نظریں بدل رہی ہیں ۔ بعض لوگوں کو بڑا دھکا لگا۔ انہوں نے کہا اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ بھیجا کیا تھا اور واپس کیا بن کے آیا ہے۔ مارے گئے ہم ۔ بعض پچھتاتے ہوئے واپس چلے گئے کہ استقبال کی خواہ مخواہ ہم نے تکلیف کی ۔ یہ تو چیز ہی اور بن گیا ہے۔ اچھا بھلا شلوار قمیص ، وہ بھی پھٹی ہوئی ، پہن کے پھرا کرتا تھا اور اب پتلون ڈانٹی ہوئی ہے ، کوٹ پہنا ہوا اور ٹائی لگائی ہوئی ہے تو چہرے بڑے مایوس ہوئے اور مجھے بڑا لطف آیا۔ میں نے کہا الحمد لله ، خدا تعالیٰ نے مجھے ایک جھوٹی عزت سے بچالیا جس کی مجھے کوئی تمنا ، کوئی خواہش