خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 73
خطبات طاہر جلد اول 73 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء تمام احمد یوں کا یونیفارم لباس تقوی ہے ( خطبہ جمعہ فرموده ۳۰ ر جولائی ۱۹۸۲ء بمقام مسجد احمد یہ مارٹن روڈ کراچی ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ نظارہ تو ایک ہی ہوتا ہے لیکن نتائج مختلف اخذ کر لیے جاتے ہیں۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اخذ کردہ مختلف نتائج ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہوتے ہیں اور اتنے متضاد کہ گویا ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں ۔ اسی قسم کا واقعہ قرآن کریم کے متعلق ظہور میں آیا جب قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت، اس کی شعریت ، اس کے نغماتی اثرات اور اس کے توازن سے متاثر ہو کر مختلف نتائج اخذ کئے گئے ۔ ظاہر پرست، ظاہر بین آنکھ نے ، جو تجزیہ نہیں کر سکتی ، جو حکمت سے غور نہیں کرتی ، ایک یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ تو شعر ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کیا بَلْ هُوَ شَاعِرٌ (الانبیاء (۶) یعنی محمد مصطفیٰ صل الله شاعر ہیں ۔ علی بہت گہرا ا۔ اثر ہے ان کے کلام میں ، بڑے نغماتی اثرات ہیں۔ فصاحت و بلاغت کا ایک دریا بہہ رہا ہے، یہ تو ہم مانتے ہیں۔ لیکن نبی ماننایا یہ کہنا کہ خدا کا کلام ہے، یہ ہم تسلیم نہیں کر سکتے ۔ شعروں سے مشابہت ہے کلام کو اور شاعروں سے مشابہت ہے نعوذ باللہ محد مصطفی ﷺ کو ۔ جن کی بصیرت کچھ آگے بڑھی ایک انچ یا دو انچ ، انہوں نے اس سے زیادہ یہ کہا کہ شاعر بھی ہیں لیکن اس کمال کے کہ سحر کی حد تک ان کے شعر میں اثر پیدا ہو چکا ہے۔ سِحْرُ مُسْتَمِر (القمر (۳) حیرت انگیز سحری اثرات ہیں اس کلام میں اور ساحر ہے۔ جادوگر ہے۔ اس سے زیادہ ہم نہیں مان سکتے۔ صلى الله