خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد اول 60 66 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء بھول گئے کہ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کا ایک اور دور بھی چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک اور طریق پر بعض دفعہ ایسے لوگوں سے انتقام لیتا ہے۔بعض دفعہ دوبارہ دنیا کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔دوبارہ مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ان کے اموال غائب ہوتے جاتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے دولتیں نکل جاتی ہیں اور پھر وہ خاندان دوبارہ فلاکت نصیب ہو جاتا ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ سخت سزا ایک اور طرح سے ملتی ہے۔اور وہ خدا کا یہ قانون ہے کہ اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور پھر روشنیوں سے اندھیرے کی طرف بھی لے جاتا ہے۔اور جب خدا زیادہ سخت سزا دینا چاہے تو ایسے خاندانوں کو بظاہر مالی لحاظ سے اور دنیوی لحاظ سے تو روشنی ہی میں رہنے دیتا ہے۔مگر نور ان سے چھین لیتا ہے جو ان کے ماں باپ کے اخلاص کا نور تھا جس کے ذریعہ سے یہ دنیا ان کو ملی تھی اور وہ روحانی لحاظ سے روشنیوں سے نکل کر اندھیروں میں داخل ہورہے ہوتے ہیں اور یہ بہت ہی برا سودا ہے۔یہ کہ دین بیچ کر دنیا حاصل کر لی۔اور دنیا کے ذریعہ دین کو حاصل نہ کر سکے بلکہ جو دین ان کے باپ دادا ان کے آباء واجداد نے کمایا تھا، وہ دین بھی اپنے ہاتھوں سے کھو بیٹھے۔اس سے برا اور اس سے زیادہ گھاٹے والا دردناک سودا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔پس آج میرے مخاطب ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوئی تعیین کرنے کا نہ مجھے حق ہے نہ آپ کو حق ہے۔ان میں سے ہر ایک کا معاملہ اپنے خدا کے ساتھ ہے۔میرا فرض ہے کہ میں متنبہ کروں کیونکہ میں اس آقا اس سب سیدوں کے آقا کے غلام کی خلافت کے منصب پر بیٹھا ہوا ہوں اور اس کے سوا میں کچھ کہہ ہی نہیں سکتا جو حضرت محمد مصطفی علیہ فرماتے رہے اور جو آپ کی پیروی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعلیم دی۔اس لئے میں مجبور ہوں یہ باتیں کہنے پر بھی۔میں نے بشارت کے پہلو بھی آپ کو دکھائے اور آپ کے دل خوش ہوئے اور حمد سے بھر گئے اور اب یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ نبی کا کام نذیر بنا بھی ہے۔خطرناک راستوں سے خطرناک مواقع سے آپ کو بچانے کے لئے متنبہ کرنا بھی ہے اور انبیاء کے بچے متبعین وہی ہوتے ہیں جو آقا کے ارادوں کے مطابق ڈھلتے اور وہی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بشیر اور نذیر ہونے کی حیثیت سے آپ کے غلاموں کی بھی ایک تصویر کھینچی۔وہاں بھی بالکل یہی مضمون نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا