خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 65

خطبات طاہر جلد اول 65 59 خطبه جمعه ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء نہیں دیتا تھا چندہ میں مگر سب سے آخر پر چندہ ادا کیا کرتا تھا اور پہلے اپنی ضرورتوں کو ترجیح دیتا تھا اور یہ سمجھ کر کہ بہت اچھا خدا کا قرضہ مجھ پر چڑھ رہا ہے کسی دن اتار دوں گا۔میں اپنے نفس کو مطمئن کر لیتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے اور میں سچ کہہ رہا ہوں کہ وہ سارا دور مجھ پر اتنی پریشانیوں کا گزرا ہے کہ ایک مصیبت سے نکل کر دوسری مصیبت میں مبتلا ہو جاتا تھا۔خدا کا مقروض ہی نہیں رہا بندوں کا مقروض بھی بن گیا۔میں اپنی جن ذاتی ضروریات کو ترجیح دیتا تھا، وہ ضروریات پوری ہونے میں نہیں آتی تھیں۔جس طرح جہنم کہے گی۔هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ (ق: ۳۱) اس طرح میری ضروریات هَلْ مِنْ مَّرِیدِ کا تقاضا کرتی چلی جاتی تھیں کرتی چلی جاتی تھیں۔آخر ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ اے خدا! تیرا حق پہلے دوں گا چاہے کچھ گزر جائے میری جان پر۔چاہے میرے بچے فاقے کریں۔میں بہر حال تیرا حق پہلے ادا کروں گا۔تو مجھ سے رحم کا معاملہ کر۔وہ کہتے ہیں وہ دن اور آج کا دن میں نے تنگی کا نام کبھی نہیں دیکھا۔ہر بات میں برکت پڑ گئی۔ہر نقصان ختم ہو گیا۔پس اللہ تعالیٰ جو دینے والا ہے جو رازق ہے اس کے ساتھ صدق وسداد کا معاملہ کرو۔تمہاری قربانیاں بھی کام آئیں گی اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں تم مزید فضلوں کے وارث بنائے جاؤ گے۔خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے تم کیوں خوف کھاتے ہو۔یہی تو وہ خرچ ہے جو تمہاری آمد کا ذریعہ ہے اور یہی تو وہ خرچ ہے جو برکتوں کا موجب ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں آپ کے صحابہ میں سے جنہوں نے تھوڑے تھوڑے مال بھی آپ کے حضور پیش کئے۔بعض نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کیں۔لیکن ان سب کے خاندان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دنیوی لحاظ سے بھی ایسے وارث بنے کہ وہ پہچانے نہیں جاتے اور حیرت انگیز طور پر ان کے اموال میں برکت دی گئی۔مگر جیسا کہ میں نے کل (عید الفطر ) کے خطبہ میں کہا تھا: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْر الله کا مضمون یہاں بھی حاوی ہے۔وہ ایک عسر سے نکالے گئے اور ایک سیسر میں داخل کئے گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے باعث اور اس کے رحم اور کرم کے نتیجہ میں اور وہ غلطی سے یہ سمجھنے لگے کہ یہ ہماری ذاتی کوشش کا نتیجہ ہے اور یہ یسر ہمارے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ہم اس خاطر پیدا کئے گئے ہیں کہ آسائش کی زندگی گزاریں اور وہ یہ