خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد اول 64 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء ہو اور اسے آپ نے کل تنخواہ دی ہو ایک ہزار روپیہ اور دوسرے دن آ کر وہ آپ سے کہے کہ آپ نے کہا تھا کہ دس فیصدی مجھے واپس کر دینا تو آپ نے جو پچاس روپے مجھے دیے تھے میں پانچ روپے واپس کر رہا ہوں۔آپ مان جائیں گے اس کی بات؟ اس سے بڑا احمق اور کون ہوسکتا ہے لیکن اگر آپ کا کارندہ اس کے پاس جا رہا ہے اور وہ اس دھو کے میں مبتلا ہے کہ اس کارندے کو پتہ نہیں کہ مجھے کتنی رقم دی گئی تھی تو پھر ایسا شخص زیادہ جرات کے ساتھ دھوکا دینے کی کوشش کرے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی بڑی بیوقوفی ہے۔کارندے تو مہرے ہیں ان کی تو ذاتی کوئی بھی حیثیت نہیں جب ان کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہو تو میں دیکھ رہا ہوتا ہوں۔میری نظر پڑ رہی ہوتی ہے تمہارے دلوں پر تمہاری زبان پر۔تمہاری تحریر پر اور تم جو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہو میں تمہارے دھو کے میں کبھی نہیں آسکتا اور کبھی نہیں آؤں گا اور یہ مومن بھی تمہارے دھوکے میں نہیں آتے۔اخلاق کے لحاظ سے ادب کے تقاضوں کے پیش نظر اور یہ سوچتے ہوئے کہ ان کی دل شکنی نہ ہو کہ ہم ان پر اعتماد نہیں کرتے خواہ تمہیں یہ کہتے رہیں کہ بہت اچھا ہم اسے منظور کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بھی صاحب فراست بندے ہیں۔نہ تو تم مجھے دھوکا دے سکتے ہو نہ ان بندوں کو دھوکا دے سکتے ہو۔تمہارا رہن سہن، تمہارا معاشرہ۔تمہاری زندگی کی اقدار ساری کی ساری یہ بتارہی ہیں کہ تمہارے اموال کتنے ہیں۔مگر چونکہ یہ ایک ٹیکس کا نظام نہیں۔اس لئے اخلاقاً بھی، تہذیباً بھی اور نظام سلسلہ کی پیروی میں بھی جملہ کا رکنان سلسلہ جو منہ سے کوئی کہتا ہے وہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی قبول کر لیتے ہیں کہ یہ شخص کہنے والا اپنے قول میں سچا نہیں ہے لیکن واقعات جو گزر جاتے ہیں وہ ایسے تمام دھو کے دینے والوں کے لئے انتہائی خطرہ کا موجب بن جاتے ہیں۔ان کی ساری عمر کی قربانیاں رائیگاں جاتی ہیں۔ان کے اموال سے برکت چھین لی جاتی ہے۔وہ طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان کو چھٹیاں پڑتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو جانتا ہے اس کے عطا کے رستے بھی بہت ہیں اور واپس لے لینے کے رستے بھی بہت ہیں۔رزق سے جو برکتیں ملا کرتی ہیں چین اور تسکین اور آرام جان کی برکتیں ، وہ برکتیں بھی ان سے چھین لی جاتی ہیں۔بسا اوقات ایسے خاندانوں کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے ضائع ہورہے ہوتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ ایک جماعت کے امیر نے مجھے بتایا کہ نو جوانی میں میرا یہ حال تھا اگر چہ دھوکا تو