خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد اول 61 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء ضروری ہے کہ جماعت کو ان خطرات سے بھی آگاہ کیا جائے جو مالی نظام میں شامل ہونے کے نتیجہ میں جماعت کے ایک طبقہ کو درپیش ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت کا سارے کا سارا مالی نظام تقویٰ پر مبنی ہے اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں آج ایک خاص معاملہ کے متعلق توجہ دلانا چاہتا ہوں، خبر دار کرنا چاہتا ہوں ، تو میری مراد صرف یہ ہے کہ ہم خدا کی خاطر جو بھی مال پیش کرتے ہیں وہ خالصہ تقویٰ پر مبنی ہو۔اور اس کے سوا کوئی مال اس پاک مال میں شامل نہ ہو اور وہ مخلصین جماعت جو انتہائی اعلیٰ معیار کی قربانی کر کے ایک طیب مال ہدیہ اپنے رب کے حضور پیش کرتے ہیں وہ گندے مال کے ساتھ مل کر ملوث نہ ہو جائے۔یہ فیصلہ اللہ ہی بہتر کر سکتا ہے کہ کون سامال پاک ہے اور کون سانہیں ہے۔وہی دلوں پر نظر رکھتا ہے۔يَعْلَمُ السّروَ أَخْفَى (:) وہ تمہارے رازوں کو بھی جانتا ہے ایسے رازوں کو جن سے تم بھی واقف ہو اور چھپائے پھرتے ہو۔وَ اَخُفی اور ایسے رازوں سے بھی باخبر ہے جن کو تم بھی نہیں جانتے۔تمہارے ضمیر میں ڈوبے ہوئے ، آنکھوں سے اس حد تک اوجھل ہو چکے ہیں وہ راز کہ تم بھول چکے ہو۔مگر اللہ کو یاد ہیں۔پس در حقیقت یہ فیصلہ خدا کرے گا نظام سلسلہ نہیں کرے گا کہ کون سا مال پاک ہے اور ان شرائط کو پورا کر رہا ہے جن شرائط کے ساتھ چندے اپنے رب کے حضور پیش ہونے چاہئیں اور کون سا مال نفس کی ملونی کے نتیجہ میں گندا ہو چکا ہے۔میں تو اصولاً آپ کے سامنے بعض خطرات رکھتا ہوں اور آپ خود اپنے نگران ہوں گے اور اپنے رب سے دعائیں کریں گے کہ اللہ ! تو ہمیں بہترین نگرانی کی توفیق عطا فرما۔اور ہمارے مخفی شر سے ہمیں محفوظ رکھ اور وہ ادنیٰ سے ادنی کیڑا بھی جو اموال کو لگتا ہے اور تیرے حضور پہنچنے سے ان کو قاصر کر دیتا ہے ان کیڑوں سے بھی ہمیں بچا کیونکہ جب تک اللہ کی مدد اور نصرت شامل نہ ہو خدا کے حضور دیئے جانے والے اموال پاک نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح نے یعنی مسیح اول نے ایک بہت ہی پیارا فقرہ کہا۔وہ کہتے ہیں اور یہ ان کی نصیحت تھی اپنے ماننے والوں کو : اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے