خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 2

خطبات طاہر جلد اول 2 خطبه جمعه ۱۱ جون ۱۹۸۲ء حضور کی یاد دل سے محو ہونے والی یاد نہیں۔ اس کے تذکرے انشاء اللہ تعالیٰ جاری رہیں گے ۔ آخری بیماری کا ایک واقعہ میں صرف آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ وفات سے غالبا ایک یا دو دن پہلے آپا طاہرہ کو حضور نے فرمایا کہ گزشتہ چار دنوں میں میری اپنے رب سے بہت باتیں ہوئی ہیں۔ میں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے اللہ ! اگر تو مجھے بلانے ہی میں راضی ہے تو میں راضی ہوں۔ مجھے کوئی تردد نہیں میں ہر وقت تیرے حضور حاضر بیٹھا ہوں ، لیکن اگر تیری رضا یہ اجازت دے کہ جو کام میں نے شروع کر رکھے ہیں ، ان کی تکمیل اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تو یہ تیری عطا ہے۔ خدا کی تقدیر جس طرح راضی تھی اور جس طرح آپ نے سرتسلیم خم کیا آج ساری جماعت اس تقدیر کے حضور تسلیم خم کر رہی ہے۔ اللہ ہمارے صبر اور ہماری رضا میں اور بھی برکت دے اور ہمیشہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہنا سیکھ لیں کیونکہ خلافت کے قیام کا مدعا توحید کا قیام ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اٹل ۔ ایسا کہ جو کبھی ٹل نہیں سکتا ، زائل نہیں ہو سکتا۔ اس میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئے گی ۔ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا (نور:۵۶) کہ خلافت کا انعام یعنی آخری پھل تمہیں یہ عطا کیا جائے گا کہ میری عبادت کرو گے، میرا کوئی شریک نہیں ٹھہراؤ گے، کامل توحید کے ساتھ تم میری عبادت کرتے چلے جاؤ گے اور میرے حمد و ثناء کے گیت گایا کرو گے۔ یہ وہ آخری جنت کا وعدہ ہے جو جماعت احمدیہ سے کیا گیا ہے اور مجھے یقین ہے اور جو نظارے ہم نے دیکھے ہیں اور جن کے نتیجہ میں غم کے دھاروں کے علاوہ حمد کے دھارے بھی ساتھ بہہ رہے ہیں اور شکر کے دھارے بھی ساتھ ہی بہہ رہے ہیں ایسے حیرت انگیز ہیں کہ آج دنیا میں کوئی قوم اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی جو جو جماعت جماعت احمدیہ احمدی کا مقام اس دنیا میں ہے وہ کسی اور اور جماعت جماعت کا کا نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک زندہ معجزہ جو ہر دوسرے اعتراض پر ، ہر مخالفت پر غالب آنے والا اور ہمیشہ غالب آنے والا معجزہ ہے، وہ جماعت احمدیہ کا قیام ہے اور جماعت احمدیہ کی تربیت ہے اور جماعت احمدیہ کے رنگ ڈھنگ ہیں ، جماعت احمدیہ کی ادائیں