خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 51

خطبات طاہر جلد اول 51 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء جستجو کی جاتی ہے اس کی جستجو کے اپنے ڈھنگ ہوتے ہیں، اپنے آداب ہوتے ہیں، اپنے اسلوب ہوتے ہیں۔تیل والے بھی خدا کی ایک نعمت کی جستجو کرتے ہیں، جب وہ زمین کی تہ سے تیل کے خزانے دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دھاتوں کی تلاش کرنے والے بھی جستجو کر رہے ہوتے ہیں اپنے رب کی ایک نعمت کی۔پانی کی تلاش کرنے والے بھی ایک نعمت کی جستجو کرتے ہیں، ہیرے جواہرات کی تلاش کرنے والے بھی جستجو کرتے ہیں۔لیکن ہر ایک کا ایک اپنا اسلوب ہے، ایک الگ ڈھنگ ہے۔آوازیں دے کر تو تیل کے زیرزمین چشموں کی آوازوں کا جواب نہیں آ سکتا۔ہر دھات کی اپنی ایک آواز ہے۔اس دھات کی آواز کو سنے کیلئے اس آواز کو پہچاننے والے آلے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ان ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے جو اس فن کو جانتے ہیں۔اگر ان ماہرین کی طرف رجوع نہ کیا جائے اور براہ راست لاکھوں کروڑوں انسان بھی تیل کی تلاش میں نکل جائیں یا سونے اور ہیرے جواہرات کی تلاش میں نکل جائیں ان کو وہ کامیابی نہیں ہوسکتی جب تک ماہر فن سے رجوع کر کے اس علم کو سیکھ نہ لیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيب اے محمد ! تو ہے اس مقام پر فائز کہ دنیا کو پر بتا سکے کہ میں کیسے ملتا ہوں؟ تیری طرف رجوع نہیں کریں گے تو مجھے نہیں تلاش کر سکیں گے اور جب تیری طرف رجوع کریں گے تو مجھے اتنا قریب پائیں گے کہ گویا تو بھی بیچ میں حائل نہیں رہا اور میں براہ راست ان کی آواز سن رہا ہوں اور ان کے قریب ہوں اور ان کو میں نے پالیا ہے۔اس مضمون میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو ہزاروں لاکھوں انسان خدا کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں کیوں ان کو خدا کی طرف سے جواب نہیں ملتا ؟ انگریزی شعراء میں سے ایک شیلے ہے۔وہ دہریہ تھا۔لیکن وہ اپنے متعلق لکھتا ہے کہ میں دہر یہ بنا ہوں پوری تلاش کے بعد۔میں غاروں میں بھی گیا اور صحراؤں میں بھی گیا اور خوبصورت وادیوں میں بھی گیا اور میں نے اللہ کو پکارا اور کہا اے خدا۔آ اور مجھ سے بات کر۔لیکن کسی خدا کی آواز مجھے نہیں آئی۔پس میں دہر یہ ہونے میں حق بجانب ہوں۔اگر وہ تیل کی تلاش میں اسی طرح نکلتا اور آواز میں دیتا پھرتا کہ اے تیل کے چشمو! میں تمہاری آواز کو سننا چاہتا ہوں مجھ پر ظاہر ہو تو وہ تیل کی حقیقت سے بھی انکار کر دیتا۔کیونکہ اس نے ان رسومات کا حق ادا نہیں کیا جو رسومات ایک خاص چیز کی تلاش کے لئے لازمی ہوا کرتی ہیں۔اسی طرح حال ہی میں روس