خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 48
خطبات طاہر جلد اول 48 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء ہیں کہ خدا جانے اس رمضان سے ہم پوری طرح استفادہ کر بھی سکے یا نہ کر سکے۔جو امید میں تھیں عبادت کی توفیق ملے گی وہ ہماری امید میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ پوری ہو سکیں یا نہ ہوسکیں۔ہماری غفلتیں کتنی ہمارے آڑے آئیں۔کتنی دعاؤں میں ایسے نفس کی ملونی کے کیڑے شامل تھے کہ وہ دعائیں مقبول نہ ہو سکیں ، ہم نہیں جانتے تھوڑے دن اب باقی ہیں۔پس اے خدا! ہم اس جمعہ کو اس جذ بہ خلوص کے ساتھ وداع کرنے کے لئے آئے ہیں کہ اس کے بعد سارا سال ہمیں جمعہ میں حاضر ہونے اور جمعہ کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخش۔جو کمیاں اس جمعہ میں ہم سے رہ گئی ہوں وہ سارے سال کی عبادت میں ہمیں پوری کرنے کی توفیق بخش۔ہم اس جمعہ کو بحیثیت جمعہ وداع کرنے نہیں آئے کیونکہ جمعہ سے تو مومن کا تعلق ایک لازمی اور ابدی تعلق ہے جوکٹ نہیں سکتا۔ہم اس مسجد کو وداع کرنے نہیں آئے بلکہ اپنے عہد کو اور پختہ کرنے کیلئے آئے ہیں۔یہ التجائیں لے کر آئے ہیں کہ اے اللہ ! تو نے ایک دفعہ اپنی عبادت کا مزہ ہمیں چکھا دیا اب اس نعمت کو ہم سے واپس نہ لے لینا۔ہمیں توفیق نہ دینا کہ ہم اس پیار کے تعلق کو تجھ سے تو ڑلیں اور جو تیرے وصال کا مزہ ہمیں پڑ چکا ہے اس مزے کو فراموش کر سکیں بلکہ اے آقا اسے دوام بخشنا۔اس جمعہ کی خاص نعمت اس کی خاص برکت کے صدقے ہم تجھ سے مانگتے ہیں کہ آئندہ اپنے گھر کے ساتھ ہمارا تعلق قطع نہ ہونے دینا۔پس ہم اس ماحول، اس مقدس پیار کے ماحول کو تو وداع کر رہے ہیں جو خاص قسمت کے ساتھ سال میں ایک دفعہ نصیب ہوتا ہے ،لیکن ان نیک تمناؤں کے ساتھ کہ اس ماحول کی برکتیں ہمارے ساتھ دائم رہیں گی اور وہ ہم سے بے وفائی نہیں کریں گی۔وہ عبادت کے رنگ جو ہم نے سیکھے اس رمضان میں اور خصوصاً اس آخری عشرہ میں، وہ عبادت کے رنگ ہم سے بے وفائی نہیں کریں گے۔ان دعاؤں اور التجاؤں کے ساتھ ہم اس خاص ماحول کو وداع کرنے کیلئے تیرے حضور حاضر ہوئے ہیں۔ایک یہ لوگ ہیں جو جمعتہ الوداع کا خاص انتظار کیا کرتے ہیں اور خاص ولولوں اور امنگوں کے ساتھ خاص آرزوؤں کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہوئے وہ اس خاص موقع پر ان مقدس لمحات کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔لیکن حسرت کا مقام یہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد ایک اور رنگ میں وداع کرنے کے لئے آئی ہے۔وہ الوداع کہنے آئی ہے جمعہ کو، وہ الوداع کہنے آئی ہے عبادتوں کو، وہ الوداع کہنے آئی ہے اللہ کے گھر کو، گو یا زبانِ حال سے وہ یہ کہتے ہیں کہ اے خدا! یہ چند دن جو تیری عبادت میں ہم نے کالے یہ بڑے تلخ تھے۔بہت بوجھ تھا ہمارے دل پر۔