خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 1

خطبات طاہر جلد اول 1 خطبه جمعه ۱۱ار جون ۱۹۸۲ء خلافت پر متمکن ہونے کے بعد پہلا خطبہ جمعہ بیعت کی ضرورت اور فلاسفی ( خطبه جمعه فرموده ا ارجون ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصی ربوه ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ حشر کی آیت کریمہ : هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (آیت: ۲۳) کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا: حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا جب عقد ثانی ہوا، عجیب کیفیت تھی چہرہ کی ، بیٹھے ہوئے سوچ رہے تھے۔ ایک سکینت بھی تھی اور گہرا غم بھی ۔ اور مجھے فرمایا کہ طاہر ! میرے دل میں دو دھارے ایک ساتھ بہہ رہے ہیں۔ ایک تسکین کا دھارا ہے جو خدا نے عطا فرمایا ہے اور ایک غم کا دھارا ہے جو نا قابل بیان ہے لیکن کامل صلح کے ساتھ، ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر دونوں دھارے بہتے چلے جارہے ہیں، بظاہر ناممکن بات نظر آتی ہے لیکن میرے دل میں یہی کیفیت ہے۔ وہی کیفیت آج میرے دل کی ہے ایک طرف غم کا دھارا ہے۔ میں خلافت کا ایک ادنی غلام تھا۔ اس اسٹیج پر قدم رکھتے ہوئے میرے دل میں خوف پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہوا گریہ وزاری کرتا ہوا سٹیج پر آج آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔