خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد اول 44 خطبہ جمعہ ۹؍ جولائی ۱۹۸۲ء اللہ کوقربانیوں کا ظاہر کچھ بھی نہیں پہنچا کرتا۔نہ اموال نہ روٹی کپڑا۔نہ گوشت اور نہ خون صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔پس وہ چیز جس نے آگے جانا تھا وہ زاد راہ بھی اس روپے میں شامل ہے۔کیونکہ یہ روپیہ تو اس دنیا میں رہ جائے گا۔اس کے اگلی دنیا میں انتقال کا کوئی ذریعہ ہم نہیں پاتے۔تو خدا کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ ساری پاک چیزیں جو قربانیوں کو قبولیت کا درجہ دیتی ہیں وہ ساری پاک چیزیں ان روپوں میں شامل ہیں۔پس دنیا کی آنکھ تو اس روپے کو ایک غریب اور نادار جماعت کا تھوڑ اسا سرمایہ دیکھتی ہے۔ایسا تھوڑا سرمایہ کہ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی حکومت بھی اس سرمایہ کے مقابل پر سینکڑوں گنا زیادہ طاقتیں رکھتی ہے لیکن اللہ کی رضا کی آنکھ اس میں غریبوں کے آنسوؤں کے موتی دیکھ رہی ہے۔اللہ کی رضا کی آنکھ ان روپوں میں مومنوں کے قلب و جگر کے ٹکڑے دیکھ رہی ہے۔ان امیروں کے اخلاص اور پاکیزگی کے جواہر دیکھ رہی ہے جنہوں نے فتنہ وفساد میں مبتلا ہونے کی خواہشوں کے باوجود اور گندگی میں مبتلا ہونے کی خواہشوں کے باوجود اللہ کی پاک رضا کی چادر اوڑھ لی۔یہ وہ ساری چیزیں ہیں جن کو اللہ کی نظر محبت اور پیار سے دیکھتی ہے اور ان کو قبول فرماتی ہے۔پس اس روپے کی حیثیت عام دنیا کے روپے کی حیثیت سے بالکل مختلف اور جدا گانہ ہے چه نسبت خاک را بعالم پاک۔کوئی مقابلہ نہیں۔پیمانہ ہی مختلف ہے۔پھر دنیا کی آنکھ اس روپے کو روبلز Roubles کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔اور روپے کی شکل میں اور ٹکوں Takka کی شکل میں اور پونڈوں کی شکل میں اور ڈالروں کی شکل میں اور مینز Yens کی شکل میں اور کروناز Kronas کی شکل میں اور پسیتا Pasetas کی شکل میں دیکھ رہی ہے اور ان پر مختلف تصویریں دیکھتی ہے۔کہیں اشتراکیت کے نشان اس میں نظر آتے ہیں۔کہیں درانتی۔کہیں ہتھوڑے کہیں بادشاہوں کی تصویر ہیں۔کہیں جارج واشنگٹن کی شبیہ ان کو دکھائی دیتی ہے۔کہیں قائد اعظم کی تصویر بھی وہ اس پر دیکھتے ہیں۔مگر ایک عارف باللہ اس روپے میں سوائے اپنے رب کے اور کوئی تصویر نہیں دیکھتا۔اللہ کی تصویر ہے اس کا چہرہ ہے جس کو قرآن کریم مالی اصطلاح میں لِوَجہ اللہ کہتا ہے یعنی اللہ کی وجہ کی خاطر جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں اس کے منہ کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام