خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد اول 43 خطبہ جمعہ ۹؍ جولائی ۱۹۸۲ء اپنی قناعت کے لحاظ سے بے مثل ہے اور ان پاکیزہ خیالات کے لحاظ سے بے مثل ہے جو اس محنت میں شامل ہیں۔پس اس روپیہ کے ساتھ دنیا کے کسی دوسرے روپیہ کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ان امیروں کا فاصلہ بھی اس میں شامل ہے جنہوں نے دنیا کی گناہ آلو د زندگی کو ترک کر کے اپنے روپے کو دنیا کی لذتوں کے حصول پر خرچ کرنے کی بجائے اپنے رب کی رضا کے حصول پر خرچ کیا اور نہ دنیا میں کروڑوں امیر ایسے بس رہے ہیں جو فسق و فجور کی راہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ان کا روپیان کی گناہ کی توفیق سے بڑھ جاتا ہے اور وہ بے چین ہوتے ہیں کہ اس کو کس طرح خرچ کریں اور کس طرح اپنے گناہ کی تمنا کو پورا کریں۔اس کی پیاس بجھائیں۔لیکن میدان نہیں ملتے۔اس کے برعکس اللہ کے فضل سے احمدی امراء ہیں جو مواقع ہونے کے باوجود۔ہر طرح کے امتحانوں اور ابتلاؤں کے باوجود ان مواقع سے رکتے رہے، جو گناہ کے حصول کیلئے ، روپے کے ذریعہ ،مواقع ان کو میسر آ سکتے تھے۔اور اس روپے کو بچا کر نیک راہوں پر خرچ کیا۔گو ذاتی لحاظ سے ان کی تکلیف ،غریب کی تکلیف کے مقابل پر کم تھی لیکن اس سے انکار بہر حال نہیں ہے کہ انہوں نے اور رنگ کی روحانی تکلیفیں اپنے اوپر وارد کیں اور امتحانوں میں ثابت قدمی دکھائی۔پس اس روپیہ میں وہ بھی اپنے غریب بھائیوں کے ساتھ شریک ہیں۔پھر ان غریبوں اور مسکینوں کی دال روٹی بھی اس روپے میں شامل ہو چکی ہے جو بمشکل زندگی گزارتے ہیں۔ایسے معمولی مددگار کارکن جن کو بعض دفعہ جماعت کو عطیہ دینا پڑتا ہے۔زندگی کی بقاء کیلئے ان کا روپیہ پیسہ بھی اس میں شامل ہوا ہوا ہے۔ان کے بچوں کا دودھ جوان کو نہیں ملا وہ بھی اس میں شامل ہے۔ان کے تن بدن کے غریبانہ کپڑے بھی اس میں شامل ہیں۔انہوں نے روپے کا روپ دھارا اور سلسلہ کے اس چندے میں داخل ہو گئے۔ان کی اپنی ایک چمک دمک ہے۔ان کی اپنی ایک روشنی ہے اور دنیا کا کوئی روپیہ اس نور اور اس روشنی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔پھر ہم راضی ہیں اللہ تعالیٰ پر کہ اس نے چندہ دینے والوں کو دعاؤں کی توفیق بخشی۔اس روپیہ میں ان کی دعائیں شامل ہیں۔ان کی نیک تمنائیں شامل ہیں۔ان کی گریہ وزاری شامل ہے۔ان کا تقویٰ شامل ہے: لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ ط التَّقْوَى مِنْكُمْ (الج:۳۸)