خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 39
خطبات طاہر جلداول 39 39 خطبہ جمعہ ۹ / جولائی ۱۹۸۲ء عیسائی چرچ روزانہ تبلیغ عیسائیت پر خرچ کر رہے ہیں۔تو جب دنیا کی ان کوششوں کو دیکھیں جو اسلام کے مقابل پر ہیں تو سارے مذاہب کو تو چھوڑو۔ساری عیسائیت کو بھی چھوڑو۔عیسائیت کا صرف ایک فرقہ اتنے اموال خرچ کر رہا ہے کہ ہمارے روپے پیسے کی اس کے مقابل پر صفر کی حیثیت رہ جاتی ہے۔جب یہ کیفیت ہے تو سوال یہ ہے کہ ہم خوش کیوں ہیں۔کیوں اسے اللہ کا فضل گردانتے ہوئے آج ہمارے دل بہت ہی مطمئن ہیں اور شاد ہیں کہ الحمد للہ بہت اچھا سال گزرا۔اس کی تین وجوہات میں آج آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب میں نے اپنے دل کی کیفیت کا تجزیہ کیا تو میں نے دیکھا کہ ظاہری روپے پیسے کی مقدار کے لحاظ سے تو کوئی خوشی کا موقع نہیں ہے۔اتنے بڑے کام پڑے ہوئے ہیں۔اتنی بڑی بڑی طاقتیں مقابل پر ہیں کہ اس روپے کی حیثیت ہی کوئی نہیں۔خوشی کی وجوہات میں سے سب سے پہلی بات یہ نظر آئی کہ یہ روپیہ ہمارے رب کے پیار کا مظہر ہے۔اس پیار کا مظہر ہے جو جماعت کے ساتھ وہ آغاز سے لے کر آج تک کر رہا ہے۔اور وہ پیار ہر پیسے میں شامل ہے۔اس کی رحمت۔اس کا فضل۔اس کی تائید اور نصرت اس وقت بلکہ زیادہ تھی اپنی شدت اور کمیت کے لحاظ سے جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور جماعت کے مخلصین بعض دفعہ دو دو پیسے پیش کرتے تھے۔ان دو پیسوں کا شکریہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے قلم سے ادا کیا۔(سراج منیر روحانی خزائن جلد 12 ص 85) اور قیامت تک ان کے نام ستاروں کی طرح روشن اور اسلام اور احمدیت کی تاریخ میں زندہ رہیں گے۔آج دو کروڑ کو بھی وہ حیثیت حاصل نہیں جو ان دو پیسوں کو تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلم سے قرطاس پر روشنائی سے لکھے جارہے تھے اور آپ کی دعائیں ان میں شامل تھیں اور اللہ تعالیٰ بڑے پیار اور محبت کے ساتھ ان دو پیسوں کو بھی دیکھ رہا تھا اور ان کے ذکر کو بھی دیکھ رہا تھا۔پیش کرنے والوں کے اخلاص کو بھی قبول کر رہا تھا اور قبول کرنے والے کی شفقت اور رحمت پر بھی پیار کی نظریں ڈال رہا تھا۔پس اصل بات جو قابل شکر ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پیار ہے اس کی رحمت ہے۔اس کا فضل ہے جو آغاز کے دن سے لے کر آج تک جماعت کے ساتھ پوری وفا کر رہا ہے اور اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس روپے پر کبھی خزاں نہیں آتی۔دنیا کے حالات جب بدلتے ہیں۔جب اقتصادی حالات بہتات سے بحران کی طرف مائل ہوتے ہیں تو بڑی بڑی کروڑ پتی کمپنیوں کے بھی دیوالئے پٹ جایا کرتے ہیں۔بڑی بڑی حکومتوں کے