خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد اول 35 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۸۲ء آپ کے عشاق نے محمد مصطفی ﷺ کے رنگ پکڑے۔جولوگ اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے وہ بعض دفعہ نادانی میں خلفاء کا ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ شروع کر دیتے ہیں۔اور ہمیشہ یہ چلتا آیا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عمرؓ کی زندگی میں ان کے ساتھ بعض نادانوں نے مقابلے کئے کہ جی وہ تو یوں کیا کرتے تھے، وہ تو یہ ہوتا تھا۔آپ یہ کرتے ہیں اور آپ یوں کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت عثمان کے دور میں حضرت عمرؓ سے مقابلے شروع ہو گئے اور حضرت علی کے دور میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقابلے شروع ہو گئے (رضوان الله علیهم )۔اور لوگ نادانی میں یہ نہیں سمجھتے کہ كُل يَعْمَلُ عَلى شَاكِلَتِهِ فَرَتْكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا تم لوگ تو نادان ہو۔تم نا واقف ہو۔جاہل ہو۔تمہیں کچھ پتہ نہیں کہ کس کا عمل کیوں ہے؟ اور طرز عمل کس لئے اختیار کیا جا رہا ہے؟ یہ بندے ہیں ، مجبور ہیں اس فطرت کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی۔یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے اپنی شاكلة کے اندر رہتے ہوئے صحیح قدم اٹھایا یا غلط قدم اٹھایا ، بندہ واقف ہی نہیں ان اسرار سے۔وہ دل کے حالات کو ، نیتوں کو نہیں جانتا۔اس لئے اس کا کام نہیں ہے کہ وہاں زبان کھولے جہاں زبان کھولنے کی اس کو مجال نہیں ، جہاں زبان کھولنے کے لئے اس کو مقرر نہیں کیا گیا۔اس لئے میں جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسی لغودلچسپیوں سے باز رہیں۔کسی کے کہنے سے کسی خلیفہ کے مقام میں ، اس کے منصب میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔جو فرق پڑے گا اور پڑتا ہے وہ صرف اللہ کی نظر میں ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کسی نے اپنی استعداد کے مطابق پورا استفادہ کیا کہ نہیں۔بعض دفعہ استعدادوں کے مختلف ہونے کے نتیجے میں مختلف طرز عمل رونما ہوتے ہیں اور اس کے باوجود بظاہر ایک کم نتیجے کو ایک بظاہر زیادہ نتیجے پر فوقیت دیدی جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے استعداد عطا فرمائی ہے کہ وہ دنیا کا بہترین دوڑنے والا بن جائے اور وہ استعدادوں کو ضائع کر دیتا ہے۔وہ بہترین تو نہیں بنتا لیکن اپنے ملک کا بہترین کھلاڑی بن جاتا ہے۔اور ایک انسان کو زیادہ سے زیادہ یہ استطاعت ہے کہ وہ اپنے ضلع کے اندر اول آئے اور ضلع کے اندر سب سے تیز دوڑنے والا شمار ہو اور وہ ساری طاقتیں استعمال کر کے اپنے ضلع میں اول آ جاتا ہے۔