خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد اول 36 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۸۲ء تو انسان کو کیا پتہ کہ کس کی استعداد کی تھی اور کون خدا کی نظر میں اپنی استعدادوں کو کمال تک پہنچا کر ان کے نقطۂ منتہا تک پہنچ گیا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ اپنی لاعلمی اور جاہلیت کو سمجھنا چاہئے اور یہی تقاضا ہے انکساری کا اور اپنے مقام بندگی کو سمجھنے کا کہ انسان ان معاملات میں دخل نہ دے جو اللہ کے معاملات ہیں۔اور اللہ کے معاملات کو اللہ پر رہنے دے۔بندے کا کام یہ ہے کہ استغفار سے کام لے، دعائیں کرے اور دعاؤں کے ذریعے من حیث الجماعت ، ساری جماعت اپنے وقت کے خلیفہ کی کمزوریوں سے پردہ پوشی کی دعا کرے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اور جتنی بھی استطاعت اس نے بخشی ہے استطاعت کے بہترین استعمال کا موقع اس کو عطا فرمائے تا کہ اس کی رضا کی نظر پڑے اس پر اور اگر آپ کے خلیفہ پر آپ کے اللہ کی رضا کی نظر پڑے گی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ساری جماعت پر اللہ کی رضا اور محبت اور پیار کی نظر میں پڑیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: احباب صفیں درست کر لیں۔اور یاد رکھیں کہ آنحضرت ﷺ کے دو احکامات کو ہمیشہ ملحوظ رکھا کریں۔ایک صفیں سیدھی ہوں اور دوسرے بیچ میں خلا نہ ہو۔گرمی کا تقاضا تو یہی ہے کہ کھلا کھلا کھڑے ہوں۔لیکن دین کا تقاضا یہ ہے کہ اکٹھے مل کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔پس جب آپ نے عہد کیا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی آزمائش ہوتی ہے۔ہر مقام پر چھوٹی ہو یا بڑی، دین کو ہمیشہ دنیا پر مقدم رکھیں۔کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں ، صفوں میں خلا نہ ہو اور سفیں سیدھی ہوں۔(روز نامہ الفضل ربوه ۱۴ / جولائی ۱۹۸۲ء)