خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 356

خطبات طاہر جلد اول 356 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء خاص طور پر جلسہ سالانہ سے ہی تعلق ہے وہ کہتے ہیں : ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی آئے تھے جن کے پاس کوئی پارچہ سرمائی نہ تھا۔“ ایسا ہو جاتا ہے۔چنانچہ گزشتہ چند سالوں سے مہمان نوازی کا شعبہ چونکہ میرے سپر د تھا۔ہم نے یہ انتظام کیا کہ ارد گرد کی جماعتوں سے بستر منگوا کر یہاں رکھے جائیں۔تا کہ کچھ مہمان جو بغیر بستر کے آجاتے ہیں۔( مثلاً افغانستان سے بعض مہمان بغیر بستر کے آئے تھے ان کے لئے بستر اٹھانا مشکل تھا) ان کے بستر مہیا کئے جائیں۔اسی طرح افسر صاحب جلسہ سالانہ نے بہت سے زائد بستر بنوا کر رکھے ہوتے ہیں وہ سارے ختم ہونے کے باوجود جو زائد انتظام تھا وہ بھی بیچ میں کام آ گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں مہمانوں کو تکلیف نہیں پہنچی۔ایسا ہو جاتا ہے لیکن آنے والے مہمانوں کو بھی خیال کرنا چاہئے کہ اب جلسے کی حدود پھیل گئی ہیں اور جلسہ کا نظام اتنی وسعت اختیار کر چکا ہے کہ اب کسی میزبان کے بس میں نہیں رہا کہ وہ خواہش بھی کرے تب بھی ان کی بستروں کی ضروریات کما حقہ پوری کر دے۔اس لئے اپنی تکلیف کی خاطر اور کچھ میزبانوں کی تکلیف کی خاطر کہ جو میزبان یہ دیکھتا ہے کہ میں اپنے مہمانوں کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا اسے بڑی شدید تکلیف پہنچتی ہے وہ بڑا دکھ محسوس کر رہا ہوتا ہے۔اس تکلیف کی خاطر مہمان حتی المقدور اپنے بستر ساتھ لایا کریں۔بہر حال جو روایت میں پڑھ رہا ہوں اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ ایسے مہمان آگئے جن کے پاس بستر نہیں تھے چنانچہ: ایک شخص نبی بخش نمبر دارسا کن بٹالہ نے اندر سے لحاف بچھونے منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔میں عشاء کے بعد حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیے بیٹھے تھے اور ایک صاحبزادہ جو غالباً حضرت خلیفتہ المسیح الثانی تھے پاس لیٹے تھے اور ایک چوغہ انہیں اوڑھا رکھا تھا۔معلوم ہوا کہ آپ نے بھی اپنا لحاف بچھونا طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا۔میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بہت ہے۔فرمانے لگے کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے رات گزر جائیگی نیچے آکر میں نے نبی بخش نمبر دار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم