خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد اول 357 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء حضرت صاحب کا لحاف بچھونا بھی لے آئے وہ شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ جس کو دے چکا ہوں اس سے کس طرح واپس لوں۔پھر میں مفتی فضل الرحمن صاحب یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا۔لحاف بچھونا مانگ کر اوپر لے گیا۔آپ نے فرمایا کسی اور کو دے دو۔مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا اور فرمایا کسی مہمان کی ضرورت پوری کریں۔“ (اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۳۵) مہمان نوازی کا ایک یہ معیار ہے جو ہمارے سامنے ایک منصب بن کر ، ایک مقصود بن کر چمک رہا ہے۔اس معیار کے قریب ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب یہ مثالیں عام ہوگئی ہیں۔گزشتہ تجربوں کی بنا پر میں یقین کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ ربوہ میں ہی ایسی مثالیں ہیں کہ گھر چھوڑ کر باہر نکل کر لوگ صحنوں میں سوئے اپنے بستر مہمانوں کو دے کر اور اپنے ہاتھ بغلوں میں دبا کر رات گزاری۔کارکنوں نے بھی اور غیر کارکنوں نے بھی۔اب یہ مثالیں عام ہیں۔لیکن یہ بھی وہ حسین ورثہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہم نے پایا ہے۔ایک دفعہ مہمان نوازی کے انتظام میں رات ایک دو بجے کے قریب ایک کارکن کو میں نے کہا آپ جائیں اور آرام کریں۔وہ چلے گئے۔نصف گھنٹے کے بعد دیکھا پھر واپس آگئے ہیں۔میں نے ان سے کہا آپ واپس آگئے ہیں۔کیا بات ہے آرام کیوں نہیں کیا۔انہوں نے کہا یہاں زیادہ آرام ہے۔یہاں کمرہ ہے کرسی ہے بیٹھنے کی جگہ ہے۔میرے گھر میں تو اتنے مہمان ہیں کہ دروازہ کھولنے کی بھی گنجائش نہیں رہی۔جب میں دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا تھا تو مہمانوں کو تکلیف پہنچتی تھی اس لئے میں واپس آ گیا ہوں اور اب رات اسی طرح کئے گی۔پس اب یہ مثالیں عام ہو گئی ہیں۔روحانی حسن کا یہی امتیاز ہے کہ وہ ایک وجود میں محدود نہیں رہتا بلکہ اس شمع سے سینکڑوں ہزاروں شمعیں روشن ہونے لگتی ہیں۔یہ شمعیں روشن ہو رہی ہیں ہوتی رہی ہیں اور اس دفعہ بھی روشن ہوں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ ہمیں مہمان نوازی کے نہایت ہی اعلیٰ اور حسین تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۱۶ جنوری ۱۹۸۳ء)