خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 32

خطبات طاہر جلد اول 32 32 خطبہ جمعہ ۲؍ جولائی ۱۹۸۲ء جہاں تک دنیوی انعامات کا تعلق ہے انسان تو بہت حریص واقع ہوا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس پر کوئی کرم کیا جائے ، کوئی احسان کیا جائے تو وہ منہ پھیر کر بھاگے، یہاں کسی ایسے انعام کا ذکر ہے جس سے ہمیشہ انسان اپنی بدقسمتی میں محروم رہنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ نبوت ہی کا انعام ہے پس معلوم ہوا کہ یہاں سب سے بڑے انعام کا ذکر چل رہا ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ رسول اکرم علی کی بعثت کا ذکر ہے۔اور تاریخ انسانی کا خلاصہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ بدقسمت یہ محروم جو اس عظیم الشان نعمت سے منہ موڑ کر اور پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہیں ان کے مقدر میں تو شروع سے یہی لکھا ہے ، یہی ان کا سلوک ہوتا رہا ہے ہر نعمت سے۔اس لئے اب اگر اس نعمت سے بھی یہ محروم رہ جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔لیکن جس طرح ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے کہ نعمت سے محرومی کے بعد انسان طرح طرح کی مصیبتوں اور مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔پس حضرت محمد مصطفی علہ کے منکرین بھی ایسی ہی مصیبتوں اور مشکلات کا شکار ہونے والے ہیں۔اور زمانہ اس انکار کے نتیجے میں لازماً ہلاکت کی طرف جائے گا اور کوئی چیز اس کو بچانہیں سکے گی۔اور وہ ہلاکت اتنی خطرناک ہوگی کہ یہی منکرین اپنی آنکھوں کے سامنے اس ہلاکت کو دیکھیں گے اور ان کے دل گواہی دیں گے کہ اس سے بچنے کے لئے کوئی جگہ نہیں گان یوسا۔وہ کلیہ اپنی نجات سے مایوس ہو جائیں گے۔فرمایا ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے انسان کو؟ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے کہ دیکھو! ہم نے انعام نبوت کے ساتھ ہی دو قسم کے طرز عمل پیدا کر دیئے۔ایک انعام پانے والوں کا طرز عمل ہے اور ایک انکار کرنے والوں کا طرز عمل۔جہاں تک مومنین کا تعلق ہے ان کے لئے انعام صلى الله پانے والے لوگوں کا طرز عمل ہے یعنی سنت حضرت محمد مصطفی ﷺ۔اس سنت سے سر مو بھی تم نے انحراف نہیں کرنا۔انکار کرنے والے ہمیشہ کی طرح انعام پانے والوں کو دکھ دیں گے۔طرح طرح کی مصیبتیں ان پر وارد کرنے کی کوشش کریں گے۔ہر طرح ان کی مخالفت کریں گے، ان کے دل دکھائیں گے، ان کو ہر قسم کے عذابوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کریں گے۔لیکن تم نے اس طرز عمل سے سر کو بھی انحراف نہیں کرنا جو تمہاری شاكلة اسوہ محمد میے کے مطابق خدا تعالیٰ نے ڈھال دی ہے۔وہی ایک طرز عمل ہے جو تمہارے لئے مقدر ہے۔اس سے ہٹنا بدنصیبوں کا کام ہے، خوش نصیبوں کا کام نہیں۔کیونکہ جو ہٹنے والے ہیں ان کے انجام کی پہلے ہی خبر دیدی۔