خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 355

خطبات طاہر جلد اول 355 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء میں کہ جوتا پہنا بھی مشکل ہو گیا۔حضور ان کے پیچھے نہایت تیز قدم چل پڑے۔چند خدام بھی ہمراہ تھے میں بھی ساتھ تھا۔نہر کے قریب پہنچ کر ان کا یکہ مل گیا اور حضور کو آتا دیکھ کر وہ یکہ سے اتر پڑے اور حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا۔کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت درد پہنچا ہے چنانچہ وہ واپس ہوئے۔حضور نے یکہ پر سوار ہونے کے لئے انہیں فرمایا اور فرمایا کہ میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے۔حضور نے خود ان کے بستر اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا مگر خدام نے اتار لیا۔حضور نے اسی وقت دو نواری پلنگ منگوائے اور ان پر ان کے بستر کرائے۔اور ان سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گے اور خود ہی فرمایا کیونکہ اُس طرف چاول کھائے جاتے ہیں اس لئے میں چاول خود ہی بھجوا دوں گا اور رات کو دودھ کے لئے پوچھا۔غرضیکہ ان کی تمام ضروریات اپنے سامنے مہیا فرمائیں اور جب تک کھانا آیا وہیں ٹھہرے رہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دور سے آتا ہے۔راستہ کی تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہے یہاں پہنچ کر سمجھتا ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا ہوں۔اگر یہاں آکر بھی اس کو وہی تکلیف ہو تو یقیناً اس کی دل شکنی ہوگی۔ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔اس کے بعد جب تک وہ مہمان ٹھہرے رہے حضور کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹے کے قریب ان کے پاس آکر بیٹھتے اور تقریر وغیرہ فرماتے۔جب وہ واپس ہوئے تو صبح کا وقت تھا،حضوڑ نے دو گلاس دودھ کے منگوائے اور انہیں فرمایا یہ پی لیجئے اور نہر تک انہیں چھوڑنے کے لئے ساتھ گئے۔راستہ میں بار بار ان سے فرماتے رہے کہ آپ تو مسافر ہیں آپ یکہ میں سوار ہو لیں مگر وہ سوار نہ ہوئے۔نہر پر پہنچ کر انہیں سوار کرا کر حضور واپس تشریف لائے۔“ (اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۱۲۰-۱۱۹) حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی ایک اور روایت بھی ہے اور اس روایت کا تو